المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
بَيْعَةُ طَلْحَةَ عَلَى يَدِ أَصْحَابِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھیوں کے ہاتھ پر سیدنا طلحہ رضی اللہ عنہ کی بیعت کا بیان
أخبرنا علي بن المُؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا محمد بن يونس، حدثنا جَنْدَل بن والِقٍ، حدثنا محمد بن عُمر المازني، عن أبي عامر الأنصاري، عن ثَوْر بن مَجْزَأة، قال: مررتُ بطلحةَ بن عُبيد الله يوم الجَمَل وهو صريعٌ في آخر رَمَق، فوقفتُ عليه فرفع رأسَه، فقال: إني لأرى وجةَ رجلٍ كأنه القَمَر، ممَّن أنتَ؟ فقلت: من أصحاب أمير المؤمنين عليٍّ، فقال: ابسُطْ يدَك أُبايعْك، فبسطْتُ يدي وبايَعَني، ففاضَت نفسُه، فأتيتُ عليًّا فأخبرتُه بقولِ طَلْحةَ، فقال: اللهُ أكبرُ اللهُ أكبرُ، صَدَق رسولُ الله ﷺ: أبى اللهُ أن يَدخُل طلحةُ الجنةَ، إلَّا وبَيعتَي في عُنُقِه (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5601 - سكت عنه الذهبي في التلخيصثور بن مجزاۃ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرا گزر جنگ جمل کے دن سیدنا طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ کے پاس سے ہوا جبکہ وہ زمین پر گرے ہوئے تھے اور آخری سانسیں لے رہے تھے، میں ان کے پاس کھڑا ہوا تو انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: ”میں ایک ایسے شخص کا چہرہ دیکھ رہا ہوں جو چاند کی طرح چمک رہا ہے، تم کس کے ساتھی ہو؟“ میں نے کہا: ”میں امیر المؤمنین علی کے ساتھیوں میں سے ہوں“، انہوں نے فرمایا: ”اپنا ہاتھ بڑھاؤ تاکہ میں تمہارے ہاتھ پر (علی رضی اللہ عنہ کی) بیعت کر لوں“، میں نے اپنا ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے بیعت کی اور اسی وقت ان کی روح پرواز کر گئی، پھر میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس جا کر انہیں سیدنا طلحہ کے قول کی خبر دی، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اللہ اکبر، اللہ اکبر! رسول اللہ ﷺ نے سچ فرمایا تھا: اللہ تعالیٰ نے اس بات کو قبول نہیں کیا کہ طلحہ جنت میں داخل ہوں، مگر اس حال میں کہ ان کی گردن میں میری بیعت ہو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (2) اس کی سند "ضعیف جداً" (سخت ضعیف) ہے جیسا کہ حافظ ابن حجر نے "اتحاف المہرہ" (14072) میں فرمایا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: محمد بن یونس (القرشی الکدیمی) "متروک الحدیث" ہے، اور محمد بن عمر المازنی، ابو عامر الانصاری اور ثور بن مجزاۃ، یہ تینوں "مجاہیل" (نامعلوم) ہیں۔