المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ حَوَارِيِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَابْنِ عَمَّتِهِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حواری اور آپ کی پھوپھی کے بیٹے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5641
حَدَّثَنَا أبو بكر بن أبي جعفر الأصبَهاني، حَدَّثَنَا الحسن بن علي بن نَصْر، حَدَّثَنَا الزُّبَير بن بَكّار، قال: أمُّ الزُّبَير صَفيّةُ بنت عبد المطلب، وأمُّها هالةُ بنت أُهَيب بن عبد مَناف بن زُهْرة، وأمُّها عاليةُ بنت عبد المُطّلب بن عبد مَناف (2).
حافظ طلحہ بابر
زبیر بن بکار بیان کرتے ہیں کہ زبیر (رضی اللہ عنہ) کی والدہ صفیہ بنت عبدالمطلب تھیں، ان کی والدہ ہالہ بنت اہیب بن عبدمناف بن زہرہ تھیں، اور ان کی والدہ عالیہ بنت عبدالمطلب بن عبدمناف تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) أخرجه ابن عساكر في "تاريخ دمشق" 18/ 340 من طريق أحمد بن سليمان الطُّوسي، عن الزبير بن بكار. لكنه سمى أمّ هالة العبلة بنت عبد المُطَّلب بن عبد مناف.
حوالہ / مصدر: (2) اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 18/ 340 میں احمد بن سلیمان الطوسی کے طریق سے زبیر بن بکار سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن انہوں نے "ام ہالہ" کا نام "العبلی بنت عبد المطلب بن عبد مناف" ذکر کیا ہے۔
وكذلك سماها مصعبٌ الزبيري في "نسب قريش" ص 17.
حوالہ / مصدر: اور اسی طرح مصعب زبیری نے "نسب قریش" ص 17 میں ان کا یہی نام ذکر کیا ہے۔
حوالہ / مصدر: (2) اسے ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" 18/ 340 میں احمد بن سلیمان الطوسی کے طریق سے زبیر بن بکار سے روایت کیا ہے۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن انہوں نے "ام ہالہ" کا نام "العبلی بنت عبد المطلب بن عبد مناف" ذکر کیا ہے۔
وكذلك سماها مصعبٌ الزبيري في "نسب قريش" ص 17.
حوالہ / مصدر: اور اسی طرح مصعب زبیری نے "نسب قریش" ص 17 میں ان کا یہی نام ذکر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5641 سے ماخوذ ہے۔