المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ مَنَاقِبِ حَوَارِيِّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَابْنِ عَمَّتِهِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ بْنِ خُوَيْلِدِ بْنِ أَسَدِ بْنِ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ قُصَيٍّ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حواری اور آپ کی پھوپھی کے بیٹے سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان
حدیث نمبر: 5640
أخبرني محمد بن المُؤمَّل، حَدَّثَنَا الفضل بن محمد، حَدَّثَنَا أحمد بن حنبل. وأخبرني أبو بكر بن بالَوَيهِ، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أَبي ﵀ وعبدُ الله بن سعيد، قالا: حَدَّثَنَا أبو أُسامة، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: لما كان يومُ اليرموكِ قيل للزبير بن العوَّام: يا أبا عبد الله (1).
حافظ طلحہ بابر
ہشام بن عروہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جب جنگ یرموک کا دن تھا تو زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ سے کہا گیا: ”اے ابو عبداللہ!“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) رجاله ثقات لكنه مرسل، فلم يدرك عروة - وهو ابن الزبير بن العوام - يوم اليرموك.
درجۂ حدیث: (1) اس کے رجال ثقہ ہیں لیکن یہ "مرسل" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: کیونکہ عروہ (جو زبیر بن عوام کے بیٹے ہیں) نے جنگِ یرموک کا زمانہ نہیں پایا۔
وانظر "صحيح البخاري" (3721) و (3795).
حوالہ / مصدر: مزید دیکھیے "صحیح بخاری" (3721) اور (3795)۔
درجۂ حدیث: (1) اس کے رجال ثقہ ہیں لیکن یہ "مرسل" ہے۔
فنی نکتہ / علّت: کیونکہ عروہ (جو زبیر بن عوام کے بیٹے ہیں) نے جنگِ یرموک کا زمانہ نہیں پایا۔
وانظر "صحيح البخاري" (3721) و (3795).
حوالہ / مصدر: مزید دیکھیے "صحیح بخاری" (3721) اور (3795)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5640 سے ماخوذ ہے۔