المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
صَامَ أَبُو طَلْحَةَ أَرْبَعِينَ سَنَةً لَا يُفْطِرُ إِلَّا يَوْمَ فِطْرٍ وَأَضْحَى باب: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے چالیس سال روزے رکھے، عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کے دن کے سوا افطار نہیں کیا
حدیث نمبر: 5604
حَدَّثَنَا أبو العباس محمد بن يعقوب، حَدَّثَنَا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حَدَّثَنَا بَهْزُ بن أسَدَ، حَدَّثَنَا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ أبا طلحة قال: لا أَتأمَّرُ على اثنين، ولا أَذُمُّهُما (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5507 - على شرط مسلمحافظ طلحہ بابر
ثابت سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں کبھی دو آدمیوں پر بھی امیر نہیں بنوں گا اور نہ ہی ان کی برائی کروں گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه الكبير" 2/ 143 عن قتيبة بن سعيد، عن بهز بن أسد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاريخ الكبير" (2/ 143) میں قتیبہ بن سعید عن بہز بن اسد کی سند سے روایت کیا ہے۔
غير أنه قال في روايته: ولا أؤمُّهما. فلعلَّ ما وقع عند المصنّف هنا تحريفٌ عنها، والله أعلم.
فنی نکتہ / علّت: البتہ بخاری کی روایت میں "ولا أؤمُّهما" (اور میں ان دونوں کی امامت نہیں کروں گا) کے الفاظ ہیں۔ غالب گمان ہے کہ مصنف کے ہاں یہاں عبارت میں کچھ تحریف (لفظی غلطی) ہوئی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه الكبير" 2/ 143 عن قتيبة بن سعيد، عن بهز بن أسد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "التاريخ الكبير" (2/ 143) میں قتیبہ بن سعید عن بہز بن اسد کی سند سے روایت کیا ہے۔
غير أنه قال في روايته: ولا أؤمُّهما. فلعلَّ ما وقع عند المصنّف هنا تحريفٌ عنها، والله أعلم.
فنی نکتہ / علّت: البتہ بخاری کی روایت میں "ولا أؤمُّهما" (اور میں ان دونوں کی امامت نہیں کروں گا) کے الفاظ ہیں۔ غالب گمان ہے کہ مصنف کے ہاں یہاں عبارت میں کچھ تحریف (لفظی غلطی) ہوئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5604 سے ماخوذ ہے۔