المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَصَوْتُ أَبِي طَلْحَةَ فِي الْجَيْشِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ رَجُلٍ باب: لشکر میں سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی آواز ایک ہزار آدمیوں سے بہتر تھی
سمعت أبا إسحاق إبراهيم بن محمد بن يحيى يقول: سمعتُ أبا العباس الدَّغُولي يقول: سمعتُ صالح الحافظ جَزَرة يقول: قال لي فَضْلَكُ الرازيّ: إذا دخلتَ نَيسابُورَ يستقبِلُك شيخٌ حَسَنُ الوجهِ، حَسَنُ الثيابِ، حَسَنُ الرَّكُوبِ، حَسَنُ الكَلامِ، فاعلَمْ أنه محمد بن يحيى الذُّهْلي، فليكن أولَ ما تسألُه عنه حديثُ شعبة عن يحيى بن صَبيح، وذكر هذا الحديث قال: فقُضيَ أني أولَ ما دخلتُ نَيسابُورَ استقبلَني رجلٌ (2) بهذا الوَصْفِ، فسألتُ عنه، فقالوا: محمدُ بنُ يحيى، فسلَّمتُ عليه، فردَّ الجَوابَ، فتَبِعتُه إلى أن نَزَل، فقلتُ: يُخرِجُ الشيخُ إِليَّ كُتُبَه؟ فأخرَجَ أجزاءً، وقال: انتَظِرْنِي لِخُروجي لصلاةِ الظُّهر، فلما خَرَجَ أَذَّن وأقامَ وصَلَّى وجَلَسَ في مِحْرابِه، فقرأتُ عليه ما كتَبتُه، ثم قلتُ له: حديثٌ أفادَني فَضْلَكُ الرازيُّ عن الشيخُ، فقال: هاتِ، فقلتُ: حدّثكُم سعيدُ بن عامر، حَدَّثَنَا شعبةُ، وذكرتُ الحديثَ، فتبسَّم، ثم قال لي: يا فتى، من يَنتخِب مثلَ هذا الانتِخابِ الذي انتخَبْتَه، ويقرأُ مثلَ ما قرأتَ، يَعلمُ أنَّ سعيدَ بنَ عامر لا يُحدِّث بمثلِ هذا، فقلت: نعم، حدَّثكُم سعيدُ بنُ واصِلٍ؟ فقال: نعم، حدَّثَناهُ سعيدُ بنُ واصلٍ (1).
صالح حافظ جزرہ بیان کرتے ہیں کہ فضلک رازی نے مجھ سے کہا: ”جب تم نیشاپور جاؤ گے تو تمہارا استقبال ایک ایسے بزرگ کریں گے جن کا چہرہ خوبصورت، لباس عمدہ، سواری شاندار اور گفتگو بہترین ہوگی، تو جان لینا کہ وہ محمد بن یحییٰ ذہلی ہیں۔ اور تم سب سے پہلے ان سے جو سوال کرنا، وہ شعبہ کی یحییٰ بن صبیح سے مروی حدیث کے بارے میں ہو،“ اور انہوں نے یہ حدیث ذکر کی۔ صالح کہتے ہیں: اتفاق سے جب میں پہلی بار نیشاپور میں داخل ہوا تو اسی حلیے والے ایک شخص نے میرا استقبال کیا۔ میں نے ان کے بارے میں پوچھا تو لوگوں نے بتایا کہ یہ محمد بن یحییٰ ہیں۔ میں نے انہیں سلام کیا تو انہوں نے جواب دیا، میں ان کے پیچھے چل پڑا یہاں تک کہ وہ اپنی قیام گاہ پر اترے۔ میں نے عرض کیا: ”کیا شیخ مجھے اپنی کتابیں دکھائیں گے؟“ انہوں نے کچھ اجزاء نکالے اور فرمایا: ”میرے نمازِ ظہر کے لیے نکلنے تک انتظار کرو۔“ پھر جب وہ نکلے، اذان و اقامت کہی اور نماز پڑھائی، پھر اپنے محراب میں بیٹھ گئے۔ میں نے ان کے سامنے وہ پڑھا جو میں نے لکھا تھا، پھر میں نے ان سے کہا: ”ایک حدیث فضلک رازی نے شیخ کی سند سے مجھے بتائی ہے۔“ انہوں نے فرمایا: ”پیش کرو۔“ میں نے کہا: ”سعید بن عامر نے آپ سے بیان کیا، انہیں شعبہ نے،“ اور میں نے پوری حدیث بیان کر دی۔ وہ مسکرائے اور مجھ سے فرمایا: ”اے نوجوان! جو شخص تمہاری طرح احادیث کا ایسا (عمدہ) انتخاب کرتا ہو اور تمہاری طرح پڑھتا ہو، وہ جانتا ہے کہ سعید بن عامر اس طرح کی حدیث بیان نہیں کرتے۔“ میں نے عرض کیا: ”جی ہاں، (دراصل) آپ سے سعید بن واصل نے بیان کیا ہے؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں، ہم سے سعید بن واصل نے بیان کیا ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
فنی نکتہ / علّت: لفظ "رجل" ہمارے قلمی نسخوں سے گر گیا تھا، جسے ہم نے نسخہ محمودیہ (طبع المیمان) سے ثابت کیا ہے۔
(1) أبو العباس الدَّغُولي: هو محمد بن عبد الرحمن بن محمد السَّرْخَسي، وصالح جَزَرة: هو صالح بن محمد بن عمرو بن حبيب، وجَزَرةُ لقبُه، وفَضْلَكُ الرازي: هو الفضل بن العبّاس الصائغ.
اہم نکتہ: ابو العباس الدغولی سے مراد "محمد بن عبد الرحمن السرخسی"، صالح جزرہ سے مراد "صالح بن محمد بن عمرو" (جزرہ ان کا لقب ہے)، اور فضلك الرازی سے مراد "الفضل بن العباس الصائغ" ہیں۔