حدیث نمبر: 5580
حَدَّثَنَا إسماعيل بن علي الخُطَبي ببغداد، حَدَّثَنَا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني العباس بن الوليد النَّرْسيّ، حَدَّثَنَا بِشْر بن المُفضّل، عن ابن عَون، عن عُمير بن إسحاق، عن المِقداد بن الأسود، قال: بَعَثَني رسولُ الله ﷺ مَبْعَثًا، فلما رجعتُ قال لي: "كيفَ تَجِدُ نَفْسَك؟ " قلت: ما زِلتُ حتَّى ظننتُ أنَّ من معي خَوَلي، وايْمُ اللهِ لا أعمَلُ على رجُلَين بعدَها (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكرُ مناقب أبي عَبْسِ بن جَبْرٍ الأنصاري الخَزْرَجيّ ﵁ -
حافظ طلحہ بابر

عمیر بن اسحاق، سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک مہم پر (امیر بنا کر) بھیجا، جب میں واپس آیا تو آپ ﷺ نے مجھ سے پوچھا: ”تم نے اپنے آپ کو کیسا پایا؟“ میں نے عرض کیا: ”(امارت کے نشے میں) میری یہ حالت ہو گئی تھی کہ میں اپنے ساتھیوں کو اپنا غلام اور خادم سمجھنے لگا تھا۔ اللہ کی قسم! اس کے بعد میں کبھی دو آدمیوں پر بھی امیر نہیں بنوں گا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
سیدنا ابو عبس بن جبر انصاری خزرجی رضی اللہ عنہ کے مناقب کا بیان۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5580
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن من أجل عمير بن إسحاق. ابن عون: هو عبد الله بن عون بن أَرْطَبان البصري.» [ترقيم الرساله 5580] [ترقيم الشركة 5534]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن من أجل عمير بن إسحاق. ابن عون: هو عبد الله بن عون بن أَرْطَبان البصري.
درجۂ حدیث: یہ اسناد عمیر بن اسحاق کی وجہ سے "حسن" ہے۔
اہم نکتہ: ابن عون سے مراد عبد اللہ بن عون بن ارطبان البصری ہیں۔
وأخرجه النسائي (8695) عن حميد بن مَسْعَدة، عن بشر بن المفضل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی (8695) نے حمید بن مسعدہ عن بشر بن المفضل کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5580 سے ماخوذ ہے۔