حدیث نمبر: 558
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكَّار بن قُتيبة القاضي بمصر، حدثنا صفوان بن عيسى، حدثنا الحسن بن ذَكْوان عن مروان الأصفر قال: رأيتُ ابنَ عمر أناخَ راحلتَه مُستقبِلَ القِبْلةِ، ثم جلس يبول إليها، فقلت: يا أبا عبد الرحمن، أليس قد نُهِيَ عن هذا، قال: إنما نُهِيَ عن ذلك في الفَضَاء، فإذا كان بينك وبين القِبْلة شيءٌ يَستُرُك، فلا بأسَ (4).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، فقد احتجَّ بالحسن بن ذَكْوان (1)، ولم يُخرجاه. وله شاهد عن جابر صحيح علي شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 551 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

مروان اصفر بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ انہوں نے اپنی سواری کو قبلہ رخ بٹھایا، پھر اس کی اوٹ میں بیٹھ کر پیشاب کرنے لگے۔ میں نے کہا: ”اے ابوعبدالرحمن! کیا اس سے منع نہیں کیا گیا؟“ انہوں نے فرمایا: ”اس سے صرف کھلے میدان میں منع کیا گیا ہے، لیکن جب تمہارے اور قبلہ کے درمیان کوئی ایسی چیز ہو جو تمہیں چھپا لے، تو اس میں کوئی حرج نہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے کیونکہ انہوں نے حسن بن ذکوان سے احتجاج کیا ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الطهارة / حدیث: 558
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 558] [ترقيم الشركة 553] [ترقيم العلميه 551]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) قوله: "شيء يسترك فلا بأس" مكانه بياض في (ز) و (ب) و (ع)، ولم نتبينه في (ص) لطمس وقع فيها مكان هذا الحديث، وأثبتناه من "تلخيص الذهبي" ومن "سنن البيهقي" 1/ 92 حيث رواه عن أبي عبد الله الحاكم بإسناده ومتنه.

والحديث إسناده ضعيف لضعف الحسن بن ذكوان، فقد اختُلف فيه، والراجح أنه ضعيف عند التفرد يعتبر به في المتابعات والشواهد.

اہم نکتہ: جملہ "کوئی چیز جو تمہیں چھپا لے تو کوئی حرج نہیں" کی جگہ نسخہ (ز)، (ب) اور (ع) میں خالی تھی، اور نسخہ (ص) میں مٹ جانے کی وجہ سے واضح نہیں تھی، اسے امام ذہبی کی "تلخیص" اور بیہقی کی "السنن" (1/ 92) سے مکمل کیا گیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند الحسن بن ذکوان کے ضعف کی وجہ سے ضعیف ہے، وہ اکیلے روایت کرنے میں ضعیف ہیں مگر متابعات میں ان کا اعتبار کیا جا سکتا ہے۔
وأخرجه أبو داود (11) عن محمد بن يحيى الذهلي، عن صفوان بن عيسى، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابوداؤد نے (11) میں محمد بن یحییٰ الذہلی عن صفوان بن عیسیٰ کی سند سے روایت کیا ہے۔
(1) قد أخرج له البخاري حديثًا واحدًا في الرِّقاق برقم (6566)، لكن له شواهد كثيرة.
اہم نکتہ: امام بخاری نے اس راوی سے کتاب "الرقاق" میں صرف ایک حدیث (6566) روایت کی ہے، تاہم اس کے بہت سے شواہد موجود ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 558 سے ماخوذ ہے۔