المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
لَا تَسُبُّوا أَمْوَاتَنَا فَتُؤْذُوا بِهِ الْأَحْيَاءَ باب: ہمارے مردوں کو برا مت کہو کہ اس سے زندوں کو تکلیف پہنچتی ہے
أخبرني أبو العباس محمد بن أحمد المحبوبي بمَرْو، قال: حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن عبد الأعلى، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس: أنَّ رجلًا ذكر أبًا للعباس، فنال منه، فلَطَمَه العباسُ، فاجتمعُوا، فقالوا: والله ليلطِمَنّ العباس كما لَطَمَه، فبلغ ذلك رسول الله ﷺ، فخَطَب فقال: "مَن أكرم الناس على الله؟ " قالوا: أنتَ يا رسول الله، قال: "فإنَّ العباس منّي وأنا منه، لا تسُبُّوا أمواتنا، فتؤذُوا به الأحياء" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5421 - صحيحسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک شخص نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے ایک (آبائی) بزرگ کا تذکرہ برائی کے ساتھ کیا، جس پر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ نے اسے تھپڑ مار دیا۔ پھر اس شخص کے قبیلے والے جمع ہوئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم! وہ بھی عباس کو اسی طرح تھپڑ مارے گا جیسے انہوں نے اسے مارا ہے۔ یہ بات رسول اللہ ﷺ تک پہنچی تو آپ ﷺ نے خطبہ دیا اور فرمایا: ”اللہ کے ہاں لوگوں میں سب سے زیادہ معزز کون ہے؟“ صحابہ کرام نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک عباس مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں، تم ہمارے مُردوں کو گالیاں مت دو کہ اس کی وجہ سے تم زندوں کو اذیت پہنچاؤ۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔