المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
الْعَبَّاسُ أَجْوَدُ قُرَيْشٍ كَفًّا باب: سیدنا عباس رضی اللہ عنہ قریش میں سب سے زیادہ سخی تھے
حدیث نمبر: 5507
وقد حدَّثَناه الشيخ أبو بكر بن إسحاق وأبو بكر بن داود الزاهد، قالا: أخبرنا علي بن الحسين (4) بن الجُنيد، حدثنا أحمد بن صالح المصري، حدثنا محمد بن طلحة التَّيْمي، حدثنا أبو سُهيل (5) بن مالك، عن سعيد بن المسيّب، عن سعد بن أبي وقاص، قال: خرج النبيُّ ﷺ يجهِّز جيشًا، فنظر العباس، فقال: "هذا العباسُ عمُّ النبيِّ أَجوَدُ قُريش كفًّا، وأوصلُها لها" (6).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ ایک لشکر تیار کرنے کے لیے نکلے، پھر آپ کی نظر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ پر پڑی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ عباس ہیں، نبی کے چچا، قریش میں سب سے زیادہ سخی اور ان کے ساتھ سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) تحرّف في (ز) إلى: الحسن، والصواب ما أثبتنا.
فنی نکتہ / علّت: (4) نسخہ (ز) میں یہ نام تحریف ہو کر "الحسن" بن گیا ہے، جبکہ درست وہی ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے۔
(5) تحرّف في (ز) و (ب) إلى: أبو سهل مكبرًا، وإنما هو أبو سُهيل مصغرًا.
فنی نکتہ / علّت: (5) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "ابو سہل" (مکبّر) ہو گیا ہے، حالانکہ یہ "ابو سہیل" (تصغیر کے ساتھ) ہے۔
(6) إسناده حسن من أجل محمد بن طلحة وهو ابن عبد الرحمن بن طلحة. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: (6) اس کی سند محمد بن طلحہ (ابن عبدالرحمن بن طلحہ) کی وجہ سے حسن ہے۔ مزید تفصیل کے لیے اس سے پچھلی بحث دیکھیں۔
فنی نکتہ / علّت: (4) نسخہ (ز) میں یہ نام تحریف ہو کر "الحسن" بن گیا ہے، جبکہ درست وہی ہے جو ہم نے (متن میں) ثابت کیا ہے۔
(5) تحرّف في (ز) و (ب) إلى: أبو سهل مكبرًا، وإنما هو أبو سُهيل مصغرًا.
فنی نکتہ / علّت: (5) نسخہ (ز) اور (ب) میں یہ تحریف ہو کر "ابو سہل" (مکبّر) ہو گیا ہے، حالانکہ یہ "ابو سہیل" (تصغیر کے ساتھ) ہے۔
(6) إسناده حسن من أجل محمد بن طلحة وهو ابن عبد الرحمن بن طلحة. وانظر ما قبله.
درجۂ حدیث: (6) اس کی سند محمد بن طلحہ (ابن عبدالرحمن بن طلحہ) کی وجہ سے حسن ہے۔ مزید تفصیل کے لیے اس سے پچھلی بحث دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5507 سے ماخوذ ہے۔