حدیث نمبر: 5395
أخبرنا أحمد بن يعقوب الثَّقفي، حدَّثنا موسى بن زكريا، حدَّثنا خَليفة بن خيّاط، فذكر هذا النَّسبَ، وزاد فيه: وأمُّ أبيِّ بن كَعْب صُقَيلةُ (3) - وقال غيره: صُهَيلة (1) - بنت الأسود بن حَرَام بن عمرو بن زيد مَناة بن عَدي بن عمرو بن مالك بن النَّجار، وهي عَمة أبي طلحة.
حافظ طلحہ بابر

خلیفہ بن خیاط نے مذکورہ بالا نسب ہی بیان کیا ہے اور اس میں یہ اضافہ کیا کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی والدہ صقیلہ (جبکہ دیگر کے نزدیک ان کا نام سہیلہ ہے) بنت اسود بن حرام بن عمرو بن زید مناۃ بن عدی بن عمرو بن مالک بن نجار تھیں، اور وہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کی پھوپھی تھیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5395
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5395] [ترقيم الشركة 5349]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) كذلك جاء في نسخنا الخطية: صُقَيلة، بالقاف، وأغلب الظن أنَّ ذلك كذلك في رواية الحاكم عن أحمد بن يعقوب الثقفي، كما تُشير إليه العبارة التي بعده، كأن الحاكم يريد أن ينبه إلى أنَّ غير أحمد بن يعقوب يرويه عن موسى بن زكريا فيقول: صُهيلة، بالهاء، وهذا صحيح، فإنَّ الدارقطني روى هذا في "مؤتلفه ومختلفه" 1/ 531 عن أبي الطاهر محمد بن أحمد بن نصر عن موسى بن زكريا عن شَبابٍ - وهو لقبُ خليفة، وتحرَّف في المطبوع إلى: شبابة - فقال: صُهيلة، وكذلك جاء في رواية أبي حفص عمر بن أحمد بن إسحاق الأهوازي، أحد رواة "طبقات خليفة" عنه عند ابن عساكر 7/ 312، وكذلك جاء في المطبوع المحقق من "الطبقات" لخليفة ص 88 الذي اعتمد فيه على نسخةٍ برواية الطبراني عن موسى بن زكريا عن خليفة، وبرواية الأهوازي عن خليفة أيضًا، كما نبَّه على ذلك الدكتور أكرم العمري.
نوٹ / توضیح: (3) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ "صُقَیلہ" (قاف کے ساتھ) آیا ہے۔ غالب گمان ہے کہ حاکم کی روایت (عن احمد بن یعقوب الثقفی) میں بھی ایسا ہی ہے، جیسا کہ بعد والی عبارت اشارہ کرتی ہے۔ گویا حاکم یہ تنبیہ کرنا چاہتے ہیں کہ احمد بن یعقوب کے علاوہ دوسرے راوی جب اسے موسیٰ بن زکریا سے روایت کرتے ہیں تو "صُہیلہ" (ہاء کے ساتھ) کہتے ہیں۔ اور یہ صحیح ہے، کیونکہ دارقطنی نے "المؤتلف والمختلف" (1/ 531) میں اسے ابو الطاہر محمد بن احمد بن نصر سے، انہوں نے موسیٰ بن زکریا سے اور انہوں نے شباب (جو خلیفہ کا لقب ہے، مطبوعہ میں تحریف ہو کر "شبابہ" ہو گیا) سے روایت کیا تو "صُہیلہ" کہا۔ اسی طرح ابو حفص عمر بن احمد بن اسحاق الاہوازی (خلیفہ کے "طبقات" کے راوی) کی روایت میں بھی ابن عساکر (7/ 312) کے ہاں "صہیلہ" آیا ہے۔ خلیفہ کے "طبقات" کے محققہ مطبوعہ نسخے (ص 88) میں بھی ایسا ہی ہے جس میں طبرانی (عن موسیٰ بن زکریا) اور الاہوازی کی روایات پر اعتماد کیا گیا ہے، جیسا کہ ڈاکٹر اکرم العمری نے تنبیہ کی ہے۔
(1) تحرَّف في نسخنا الخطية إلى: صهيبة، بالباء بدل اللام.
نوٹ / توضیح: (1) قلمی نسخوں میں یہ تحریف ہو کر "صہیبہ" (لام کی جگہ باء کے ساتھ) ہو گیا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5395 سے ماخوذ ہے۔