المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ حَاطِبِ بْنِ أَبِي بَلْتَعَةَ اللَّخْمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ باب: سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ لخمی رضی اللہ عنہ کا ذکر
حدیث نمبر: 5388
حدَّثنا أحمد بن يعقوب الثَّقَفي، حدَّثنا موسى بن زكريا، حدَّثنا خليفة بن خَيّاط، قال: كان حاطب بن أبي بَلْتَعة يُكنى أبا محمّد (4).
حافظ طلحہ بابر
خلیفہ بن خیاط بیان کرتے ہیں کہ سیدنا حاطب بن ابی بلتعہ رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو محمد تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) الذي في "الطبقات" لخليفة بن خياط ص 70 أنَّ حاطبًا يكنى أبا عبد الله، وأسند ذلك عنه ابن مَنْده في "فتح الباب في الكنى والألقاب" (4175). ولكن تكنية حاطب بأبي محمد أشهر كما كنَّاه الواقديُّ في روايته التالية عن المصنف، وكذلك يحيى بنُ بُكَير كما سيأتي برقم (5390)، وهو قول أبي الحسن علي بن محمد المدائني كما نقله عنه ابن أبي خيثمة في السفر الثاني من "تاريخه الكبير" (634).
نوٹ / توضیح: (4) خلیفہ بن خیاط کی "الطبقات" (ص 70) میں حاطب کی کنیت "ابو عبد اللہ" ہے، اور ابن مندہ نے "فتح الباب" (4175) میں اسے ان سے مسنداً بیان کیا ہے۔ لیکن حاطب کی کنیت "ابو محمد" زیادہ مشہور ہے جیسا کہ مصنف کی اگلی روایت میں واقدی نے انہیں کنیت دی ہے، اور یحییٰ بن بکیر نے بھی جیسا کہ نمبر (5390) پر آئے گا۔ ابو الحسن علی بن محمد المدائنی کا بھی یہی قول ہے جیسا کہ ابن ابی خیثمہ نے "التاریخ الکبیر" (634) میں ان سے نقل کیا ہے۔
وخالفهم جميعًا الطبريُّ في "ذيل المذيَّل" كما في "منتخبه" لعُريب بن سعد القرطبي بإثر "تاريخ الطبري" 11/ 675، فكناه أبا عبد الرحمن!
فنی نکتہ / علّت: طبری نے "ذیل المذیل" (بحوالہ منتخب عریب بن سعد القرطبی، تاریخ طبری 11/ 675 کے آخر میں) ان سب کی مخالفت کی ہے اور ان کی کنیت "ابو عبد الرحمن" بتائی ہے!
نوٹ / توضیح: (4) خلیفہ بن خیاط کی "الطبقات" (ص 70) میں حاطب کی کنیت "ابو عبد اللہ" ہے، اور ابن مندہ نے "فتح الباب" (4175) میں اسے ان سے مسنداً بیان کیا ہے۔ لیکن حاطب کی کنیت "ابو محمد" زیادہ مشہور ہے جیسا کہ مصنف کی اگلی روایت میں واقدی نے انہیں کنیت دی ہے، اور یحییٰ بن بکیر نے بھی جیسا کہ نمبر (5390) پر آئے گا۔ ابو الحسن علی بن محمد المدائنی کا بھی یہی قول ہے جیسا کہ ابن ابی خیثمہ نے "التاریخ الکبیر" (634) میں ان سے نقل کیا ہے۔
وخالفهم جميعًا الطبريُّ في "ذيل المذيَّل" كما في "منتخبه" لعُريب بن سعد القرطبي بإثر "تاريخ الطبري" 11/ 675، فكناه أبا عبد الرحمن!
فنی نکتہ / علّت: طبری نے "ذیل المذیل" (بحوالہ منتخب عریب بن سعد القرطبی، تاریخ طبری 11/ 675 کے آخر میں) ان سب کی مخالفت کی ہے اور ان کی کنیت "ابو عبد الرحمن" بتائی ہے!
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5388 سے ماخوذ ہے۔