المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ وَفَاةِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ باب: سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی وفات کا بیان
حدیث نمبر: 5371
فحدَّثنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدَّثنا محمد بن عبد الله بن نُمير، قال: خالد بن الوليد بن المُغيرة بن عبد الله بن عُمر بن مَخزُوم، وأمُّه لُبابة بنت الحارث بن حَزْن الهلالية أختُ ميمونةَ بنت الحارث زوجِ النبي ﷺ، وكان خالدٌ يكنى أبا سليمان، استعملَه عمر بن الخطاب على الرُّهَا وحَرّان والرَّقّة وآمِدَ، فمَكَثَ سنةً، واستَعْفَى فأعفاهُ، فقدم المدينة فأقام بها في منزله، حتى مات بالمدينة سنة اثنتين وعشرين (2).
حافظ طلحہ بابر
محمد بن عبد اللہ بن نمیر بیان کرتے ہیں کہ خالد بن ولید بن مغیرہ بن عبد اللہ بن عمر بن مخزوم کی والدہ لبابہ بنت حارث بن حزن ہلالیہ تھیں جو نبی کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ سیدہ میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنہا کی بہن تھیں، خالد کی کنیت ابو سلیمان تھی، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے انہیں رہا، حران، رقہ اور آمد کا گورنر مقرر کیا تھا، وہ ایک سال تک ان عہدوں پر رہے، پھر انہوں نے سبکدوشی کی درخواست کی جسے سیدنا عمر نے قبول کر لیا، چنانچہ وہ مدینہ آگئے اور اپنے گھر میں مقیم رہے یہاں تک کہ سن 22 ہجری میں مدینہ منورہ میں ان کی وفات ہوئی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) ما قاله ابن نمير هنا يخالف ما رواه عنه محمد بن عبد الله الحضرمي عند الطبراني في "الكبير" 4/ (3814) من وفاة خالد بحمص سنة إحدى وعشرين، موافقًا في ذلك قول الواقدي، وهو قول الجمهور.
فنی نکتہ / علّت: (2) ابن نمیر نے یہاں جو کہا ہے وہ اس بات کے خلاف ہے جو ان سے محمد بن عبد اللہ الحضرمی نے طبرانی کی "المعجم الکبیر" (4/ 3814) میں روایت کی ہے کہ خالد کی وفات حمص میں سنہ 21 ہجری میں ہوئی، جو کہ واقدی اور جمہور کے قول کے موافق ہے۔
وممَّن ذكر وفاة خالد بن الوليد بالمدينة جماعةٌ، منهم مصعبُ بن عبد الله الزبيري كما سيأتي برقم (5385)، مع أنَّ الذي في "نسب قريش" له ص 321 أنَّ خالدًا مات بالشام! وجزم بموته بالمدينة كذلك دُحَيمٌ عبد الرحمن بن إبراهيم الدمشقي، لكن الصحيح أنه مات بحمص كما تقدم.
فنی نکتہ / علّت: خالد بن ولید کی وفات مدینہ میں ذکر کرنے والوں میں ایک جماعت ہے، جن میں مصعب بن عبد اللہ الزبیری (نمبر 5385 پر آئے گا) شامل ہیں، حالانکہ ان کی کتاب "نسب قريش" (ص 321) میں ہے کہ خالد شام میں فوت ہوئے! اسی طرح دحیم عبد الرحمن بن ابراہیم الدمشقی نے بھی مدینہ میں وفات پر جزم کیا ہے، لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ حمص میں فوت ہوئے جیسا کہ گزرا۔
فنی نکتہ / علّت: (2) ابن نمیر نے یہاں جو کہا ہے وہ اس بات کے خلاف ہے جو ان سے محمد بن عبد اللہ الحضرمی نے طبرانی کی "المعجم الکبیر" (4/ 3814) میں روایت کی ہے کہ خالد کی وفات حمص میں سنہ 21 ہجری میں ہوئی، جو کہ واقدی اور جمہور کے قول کے موافق ہے۔
وممَّن ذكر وفاة خالد بن الوليد بالمدينة جماعةٌ، منهم مصعبُ بن عبد الله الزبيري كما سيأتي برقم (5385)، مع أنَّ الذي في "نسب قريش" له ص 321 أنَّ خالدًا مات بالشام! وجزم بموته بالمدينة كذلك دُحَيمٌ عبد الرحمن بن إبراهيم الدمشقي، لكن الصحيح أنه مات بحمص كما تقدم.
فنی نکتہ / علّت: خالد بن ولید کی وفات مدینہ میں ذکر کرنے والوں میں ایک جماعت ہے، جن میں مصعب بن عبد اللہ الزبیری (نمبر 5385 پر آئے گا) شامل ہیں، حالانکہ ان کی کتاب "نسب قريش" (ص 321) میں ہے کہ خالد شام میں فوت ہوئے! اسی طرح دحیم عبد الرحمن بن ابراہیم الدمشقی نے بھی مدینہ میں وفات پر جزم کیا ہے، لیکن صحیح یہی ہے کہ وہ حمص میں فوت ہوئے جیسا کہ گزرا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5371 سے ماخوذ ہے۔