المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَفَاةُ أُسَيْدِ بْنِ حُضَيْرٍ سَنَةَ عِشْرِينَ باب: سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کی وفات سن بیس ہجری میں ہوئی
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا أسدُ بن موسى، حدثنا الليث، عن ابن شِهاب، عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك، عن أُسَيد بن حُضَير أنه كان يقرأ على ظَهْر بيتِه، وهو حَسنُ الصوتِ، قال: فبَيْنا أنا أقرأُ إذ غَشِيني شيءٌ كالسحاب، والمرأةُ في البيتِ والفرسُ في الدارِ، فتخوَّفتُ أن تُسقِطَ المرأةُ، فانصرفتُ، فقال النبيُّ ﷺ: "اقرَأْ، فإنما هو مَلَكٌ استمعَ القرآنَ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يخرجاه، لأنَّ سفيان بن عُيينة أرسلَه عن الزُّهْري (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5259 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفهسیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ اپنے گھر کی چھت پر تلاوت کر رہے تھے اور وہ نہایت خوش الحان تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ تلاوت کے دوران اچانک مجھے بادل کی طرح کی کسی چیز نے ڈھانپ لیا، اس وقت میری اہلیہ گھر میں تھیں اور گھوڑا صحن میں بندھا تھا، تو میں ڈر گیا کہ کہیں (گھوڑے کے بدکنے سے) اہلیہ کا حمل ساقط نہ ہو جائے، چنانچہ میں نے تلاوت روک دی، اس پر نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”تلاوت جاری رکھتے، کیونکہ وہ فرشتے تھے جو قرآن سننے کے لیے آئے تھے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا کیونکہ سفیان بن عیینہ نے اسے زہری سے مرسل روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث صحیح ہے۔
نوٹ / توضیح: یہ اسی روایت کا تکرار ہے جو نمبر (2056) پر گزر چکی ہے۔
(2) تقدَّمت روايته هذه عند المصنف برقم (2057).
حوالہ / مصدر: (2) یہ روایت مصنف (حاکم) کے ہاں پہلے نمبر (2057) پر گزر چکی ہے۔