حدیث نمبر: 5340
حدثنا أبو عبد الله الأصبَهاني، حدثنا الحسن بن الجَهْم، حدثنا الحسين بن الفَرَج، حدثنا محمد بن عمر: وأُسَيد بن الحُضَير بن سِماك، يُكنى أبا يحيى، ويقال: أبو الحُصَين، ويقال: أبا بَحْر، وكان أُسَيد شريفًا في قومه في الجاهلية والإسلام، يُعدُّ من عُقلائهم وذَوي آرائهم، وكان من الكَمَلَة (1)، وكان أبوه الحُضَيرُ الكتائبِ كذلك مِن قبله، وكان رئيسَ الأوس يوم بُعَاث، وقُتل حُضَير يومئذ. وأُسيد بن حُضَير أحدُ السبعين من الأنصار الذين بايَعُوا رسولَ الله ﷺ ليلةَ العَقَبة في رواية جميعِهم، وأحدُ النُّقباء الاثني عشرَ، وآخَى رسولُ الله ﷺ بين أُسَيد بن حُضَير وزيد بن حارثة، ولم يَشهَد أُسَيدٌ بدرًا، تَخلَّف هو وغيرُه من أكابر الصحابة من النُّقَباء وغيرهم عن بدر، لأنهم لم يظنُّوا أنَّ رسول الله ﷺ يَلقَى حَرْبًا ولا قتالًا، وشَهِدَ أُسَيدٌ أحدًا، وجُرح يومئذٍ سبع جراحاتٍ، وثَبَتَ مع رسول الله ﷺ حين انكَشَف الناسُ، وشَهِدَ الخندقَ والمشاهدَ كلَّها مع رسول الله ﷺ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5258 - حذفه الذهبي من التلخيص لضعفه
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عمر کہتے ہیں کہ اسید بن حضیر بن سماک کی کنیت ابو یحییٰ تھی، انہیں ابو حصین اور ابو بحر بھی کہا جاتا تھا، اسید جاہلیت اور اسلام دونوں میں اپنی قوم کے نہایت معزز، صاحبِ عقل اور صاحبِ رائے فرد شمار ہوتے تھے، ان کا شمار ”کملہ“ (یعنی ان لوگوں میں جو لکھنا، تیراکی اور تیر اندازی جانتے تھے) میں ہوتا تھا، ان کے والد حضیر الکتائب بھی ان سے پہلے ایسے ہی تھے جو جنگِ بعاث کے دن اوس کے سردار تھے اور اسی دن قتل ہوئے، تمام روایتوں کے مطابق اسید ان ستر انصار میں سے ایک تھے جنہوں نے لیلۃ العقبہ میں رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی، وہ بارہ نقیبوں میں سے ایک تھے، رسول اللہ ﷺ نے اسید بن حضیر اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہما کے درمیان بھائی چارہ قائم فرمایا تھا، اسید غزوہ بدر میں شریک نہیں ہو سکے تھے، ان کے علاوہ دیگر بڑے صحابہ اور نقیب بھی بدر میں شرکت سے رہ گئے تھے کیونکہ ان کا خیال یہ نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ کا کسی جنگ یا قتال سے سامنا ہوگا، البتہ وہ غزوہ احد میں شریک ہوئے اور اس دن انہیں سات زخم آئے اور جب لوگ بکھر گئے تھے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ثابت قدم رہے، انہوں نے غزوہ خندق اور رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شرکت کی۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5340
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 5340] [ترقيم الشركة 5295] [ترقيم العلميه 5258]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في المطبوع: الكتبة، بدل الكملة، وهو تحريف، وإن كان حُضير ممّن يعلم الكتابة، وقال ابن سعد في "الطبقات" 3/ 558: كان أُسَيد يكتب العربية في الجاهلية، وكانت الكتابة في العرب قليلًا، وكان يُحسِن العَومَ والرمي، وكان يُسمَّى مَن كانت هذه الخِصال فيه في الجاهلية الكامل، وكانت قد اجتمعت في أُسَيد.
نوٹ / توضیح: (1) مطبوعہ نسخے میں "الکملہ" کی بجائے "الکتبہ" ہے، جو کہ تحریف ہے، اگرچہ حُضیر لکھنا جانتے تھے۔ ابن سعد نے "الطبقات" (3/ 558) میں کہا: "اُسید جاہلیت میں عربی لکھنا جانتے تھے، اور عربوں میں لکھنا کم تھا۔ وہ تیراکی اور تیر اندازی میں بھی ماہر تھے۔ جاہلیت میں جس شخص میں یہ خوبیاں جمع ہوتیں اسے ’الکامل‘ کہا جاتا تھا، اور یہ سب اُسید میں جمع تھیں۔"
(2) انظر الطبقات الكبرى لابن سعد 3/ 559.
حوالہ / مصدر: (2) دیکھیں: ابن سعد کی "الطبقات الکبریٰ" (3/ 559)۔
وقد وافق الواقديَّ على عدم شهود أُسَيد بدرًا محمدُ بنُ إسحاق كما في "سيرة ابن هشام" 1/ 454 - 455. لكن ذكر ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 45 أنَّ غير محمد بن إسحاق يقول: إنه شهد بدرًا. قلنا: جزم ابن السَّكن فيما نقله عنه الحافظ ابن حجر في "الإصابة" 1/ 83 بشهوده بدرًا، وأثبت ذلك أيضًا خليفةُ بنُ خياط عند ابن عساكر 9/ 78، وجماعةٌ آخرون رواه عنهم الواقدي عند ابن عساكر 9/ 95 - 96، وأثبته الدارقطني كذلك في "المؤتلف والمختلف" 2/ 554، وغيرهم، فالله تعالى أعلم، وأنكر ابن عساكر 9/ 77 شهوده بدرًا بخبرٍ ذكره لا يُعتمَد على مثله.
فنی نکتہ / علّت: واقدی کی اس بات پر کہ اُسید بدر میں شریک نہیں ہوئے، محمد بن اسحاق نے موافقت کی ہے (دیکھیں: سیرت ابن ہشام 1/ 454-455)۔ لیکن ابن عبد البر نے "الاستیعاب" (ص 45) میں ذکر کیا ہے کہ محمد بن اسحاق کے علاوہ دوسرے کہتے ہیں کہ وہ بدر میں شریک ہوئے۔ ہم (محقق) کہتے ہیں: ابن السکن نے (بحوالہ الاصابہ، ابن حجر 1/ 83) ان کی شرکتِ بدر پر یقین (جزم) کیا ہے۔ خلیفہ بن خیاط (بحوالہ ابن عساکر 9/ 78) اور ایک جماعت (جن سے واقدی نے روایت کیا، بحوالہ ابن عساکر 9/ 95-96) نے بھی اسے ثابت کیا ہے۔ دارقطنی نے بھی "المؤتلف والمختلف" (2/ 554) میں اسے ثابت کیا ہے۔ واللہ اعلم۔ ابن عساکر (9/ 77) نے ایک ایسی خبر کی بنیاد پر ان کی شرکت کا انکار کیا ہے جس پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5340 سے ماخوذ ہے۔