حدیث نمبر: 5165
وحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثني ابن إسحاق، عن محمد بن عبد الله بن أبي بكر، عن أبيه: أنَّ خالد بن سعيد حين وَلّاه رسولُ الله ﷺ اليمنَ قَدِمَ بعد وفاةِ رسول الله ﷺ، وتَربَّص ببيعتِه، شهرَين، يقول: قد أمَّرني رسولُ الله ﷺ، ثم لم يَعزِلْني حتى قَبضَه اللهُ ﷿، وقد لقي عليَّ بنَ أبي طالب وعثمانَ بنَ عفّان، فقال: يا بَني عبد مَنافٍ، طِبتُم نَفْسًا عن إمرتِكم، يَلِيهِ غَيرُكم، قال: فأما أبو بكر فلم يَحفِلْها (3) عليه، وأما عمرُ فاضطَغَنَها (1) عليه، ثم بعث أبو بكر الجنودَ إلى الشام، فكان أولَ من استَعمَل على رَبْعٍ منها خالدُ بنُ سعيد، فأخذ عمرُ يقول: أتُؤمِّره وقد صَنَع ما صَنَع وقال ما قال؟! فلم يَزلْ بأبي بكر حتى عَزَله وأمَّر يزيدَ بنَ أبي سفيان (2). حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 5087 - ذا منقطع
حافظ طلحہ بابر

محمد بن عبداللہ بن ابی بکر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا خالد بن سعید رضی اللہ عنہ کو یمن کا گورنر مقرر فرمایا تھا، وہ آپ ﷺ کی وفات کے بعد مدینہ پہنچے اور دو ماہ تک بیعت سے رکے رہے، وہ کہتے تھے: ”مجھے رسول اللہ ﷺ نے امیر مقرر کیا تھا اور اللہ عزوجل کے آپ کی روح قبض کرنے تک آپ ﷺ نے مجھے معزول نہیں فرمایا“، انہوں نے سیدنا علی بن ابی طالب اور سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہما سے ملاقات کی اور کہا: ”اے بنو عبد مناف! کیا تم نے اپنی خلافت کو بخوشی چھوڑ دیا کہ اب کوئی دوسرا اسے سنبھالے؟“ راوی کہتے ہیں: سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے تو ان کی اس بات کی پرواہ نہ کی لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دل میں یہ بات کھٹکتی رہی، پھر جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے لشکر شام روانہ کیے تو سب سے پہلے خالد بن سعید کو ایک چوتھائی لشکر کا امیر مقرر کیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہنے لگے: ”کیا آپ انہیں امیر بنا رہے ہیں حالانکہ انہوں نے جو کچھ کیا اور کہا وہ آپ کے سامنے ہے؟!“ وہ مسلسل سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو قائل کرتے رہے یہاں تک کہ انہوں نے خالد کو معزول کر کے یزید بن ابی سفیان کو امیر مقرر کر دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 5165
درجۂ حدیث محدثین: حسنٌ لغيره
تخریج حدیث «حسنٌ لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن المحفوظ أنه من رواية محمد بن إسحاق صاحب السيرة عن عبد الله بن أبي بكر محمد بن عمرو بن حزم مرسلًا، وليس لعبد الله بن أبي بكر عَقِبٌ كما نصّ عليه الواقدي فيما نقله عنه ابن سعد في "طبقاته" 7/ 491، ...» [ترقيم الرساله 5165] [ترقيم الشركة 5120] [ترقيم العلميه 5087]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) تحرَّفت في نسخنا الخطية إلى: يجعلها، من الجَعْل، وإنما هي: يَحفِلها، من الحَفْل: وهي المُبالاة، يقال: لا أَحفِلُه، أي: لا أُباليه. وعند بعض من ذكر الخبر: فلم يَحفِل بها. ويجوز أن يتعدّى بنفسه وبالباء.
فنی نکتہ / علّت: (3) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "یجعلھا" (جعل سے) ہو گیا ہے، جبکہ درست لفظ "یَحفِلُھا" (حفل سے) ہے، جس کا مطلب "پرواہ کرنا" ہے۔ کہا جاتا ہے: "لا أحفلہ" یعنی میں اس کی پرواہ نہیں کرتا۔ بعض روایات میں الفاظ ہیں: "فلم يَحفِل بھا"۔ یہ فعل بذاتِ خود (متعدی بنفسہ) اور حرفِ جر "ب" کے ساتھ دونوں طرح استعمال ہو سکتا ہے۔
(1) تحرَّفت في نسخنا الخطية إلى: فاصطنعها، وجاءت على الصواب في "تلخيص المستدرك" للذهبي، وفاقًا لسائر مصادر تخريج الخبر، وهي من اضطَغَن الرجلُ: إذا حمل في نفسه حقدًا.
فنی نکتہ / علّت: (1) ہمارے قلمی نسخوں میں یہ لفظ تحریف ہو کر "فاصطنعھا" ہو گیا ہے، جبکہ درست لفظ ذہبی کی "تلخیص المستدرک" میں موجود ہے، جو کہ اس خبر کے دیگر مآخذ کے بھی موافق ہے۔ یہ "اضطغن الرجل" سے ماخوذ ہے، یعنی جب آدمی اپنے دل میں کینہ (حقد) رکھے۔
(2) حسنٌ لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن المحفوظ أنه من رواية محمد بن إسحاق صاحب السيرة عن عبد الله بن أبي بكر محمد بن عمرو بن حزم مرسلًا، وليس لعبد الله بن أبي بكر عَقِبٌ كما نصّ عليه الواقدي فيما نقله عنه ابن سعد في "طبقاته" 7/ 491، فالخبر من مرسل عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم، وفيه أيضًا عنعنةُ ابن إسحاق لكن روي الخبر من غير وجهٍ، فهو حسنٌ بمجموعها.
درجۂ حدیث: (2) یہ حدیث "حسن لغیرہ" ہے، اور اس سند کے راویوں میں "کوئی حرج نہیں"۔
فنی نکتہ / علّت: لیکن محفوظ یہ ہے کہ یہ محمد بن اسحاق (صاحبِ سیرت) کی روایت ہے جو وہ عبداللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے "مرسل" روایت کرتے ہیں۔ اور عبداللہ بن ابی بکر کی کوئی اولاد (عقب) نہیں تھی جیسا کہ واقدی نے صراحت کی ہے [دیکھیں: طبقات ابن سعد 7/ 491]۔ لہٰذا یہ خبر عبداللہ بن ابی بکر کی "مرسل" ہے، اور اس میں ابن اسحاق کی "عنعنہ" بھی ہے۔
اہم نکتہ: چونکہ یہ خبر متعدد طرق سے مروی ہے، اس لیے مجموعی طور پر "حسن" ہے۔
وأخرجه الطبري في "تاريخه" 3/ 387، ومن طريقه ابن عبد البر في "الاستيعاب" ص 378 من طريق سلمة بن الفضل الأبرش، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 16/ 78 من طريق إسحاق بن بشر البخاري، كلاهما عن ابن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر بن محمد بن عمرو بن حزم مرسلًا.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تاریخ الامم والملوک" [3/ 387] میں روایت کیا ہے، اور ان کے طریق سے ابن عبدالبر نے "الاستیعاب" (صفحہ 378) میں سلمہ بن فضل الابرش کے واسطے سے روایت کیا۔ اور ابن عساكر نے "تاریخ دمشق" [16/ 78] میں اسحاق بن بشر البخاری کے طریق سے روایت کیا۔ یہ دونوں (سلمہ اور اسحاق) ابن اسحاق سے، اور وہ عبداللہ بن ابی بکر سے "مرسل" روایت کرتے ہیں۔
وأخرجه عبد الرزاق (9770) عن معمر، عن الزهري، مرسلًا مثلُه.
حوالہ / مصدر: نیز عبدالرزاق (9770) نے معمر سے، انہوں نے زہری سے اسی طرح "مرسل" روایت کیا ہے۔
وأخرجه ابن سعد في "الطبقات" 4/ 91، ومن طريقه ابن عساكر 16/ 79 - 80 عن محمد بن عمر الواقدي، عن جعفر بن محمد بن خالد بن الزبير بن العوام، عن إبراهيم بن عقبة، عن أم خالد بنت خالد بن سعيد بن العاص.
حوالہ / مصدر: اسے ابن سعد نے "الطبقات" [4/ 91] میں، اور ان کے طریق سے ابن عساكر [16/ 79-80] نے محمد بن عمر الواقدی سے، انہوں نے جعفر بن محمد بن خالد بن زبیر سے، انہوں نے ابراہیم بن عقبہ سے اور انہوں نے ام خالد بنت خالد بن سعید بن العاص سے روایت کیا ہے۔
وذكرت فيه أم خالد أنَّ أباها بايع أبا بكر بعد ثلاثة أشهر، بايعه في المسجد وأبو بكر على المنبر.
تفصیلِ روایت: اس میں ام خالد نے ذکر کیا ہے کہ ان کے والد نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بیعت تین ماہ بعد کی تھی؛ انہوں نے مسجد میں بیعت کی جب ابوبکر منبر پر تشریف فرما تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 5165 سے ماخوذ ہے۔