حدیث نمبر: 4948
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عثمان بن عمر، حدثنا أسامة بن زيد عن الزُّهْري، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ مَرّ بحمزةَ يوم أُحُدٍ وقد جُدِعَ ومُثِّل به، وقال: "لولا أن صفية تَجِدُ لَتَركْتُه حتى يَحشُرَه اللهُ من بُطون الطَّير والسِّباع"، فكفَّنه في نَمِرةٍ (1). صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4887 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جنگِ احد کے دن سیدنا حمزہ کے پاس سے گزرے جبکہ ان کے ناک کان کاٹے جا چکے تھے اور ان کے جسم کا مثلہ کیا گیا تھا، تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر صفیہ (سیدنا حمزہ کی بہن) کے رنج و ملال کا ڈر نہ ہوتا تو میں انہیں (اسی میدان میں) چھوڑ دیتا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ انہیں پرندوں اور درندوں کے پیٹ سے جمع فرماتا“، پھر آپ ﷺ نے انہیں ایک «نَمِرة» ”دھاری دار چادر“ میں کفن دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4948
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن غلط فيه أسامة بن زيد - وهو الليثي - إذ جعله عن الزُّهْري عن أنس، وإنما هو عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله، كما تقدّم بيانه برقم (1367) و (2590)، حيث تقدَّم هناك من طرق عن أسامة بن زيد الليثي.» [ترقيم الرساله 4948] [ترقيم الشركة 4915] [ترقيم العلميه 4887]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) صحيح لغيره، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن غلط فيه أسامة بن زيد - وهو الليثي - إذ جعله عن الزُّهْري عن أنس، وإنما هو عن الزهري عن عبد الرحمن بن كعب بن مالك عن جابر بن عبد الله، كما تقدّم بيانه برقم (1367) و (2590)، حيث تقدَّم هناك من طرق عن أسامة بن زيد الليثي.
درجۂ حدیث: (1) یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے، یہ والی سند ایسی ہے جس کے رجال "لا بأس بہم" ہیں، فنی نکتہ / علّت: لیکن اس میں اسامہ بن زید - جو کہ اللیثی ہیں - سے غلطی ہوئی ہے، انہوں نے اسے "زہری عن انس" بنا دیا، حالانکہ درحقیقت یہ "زہری عن عبدالرحمن بن کعب بن مالک عن جابر بن عبداللہ" ہے، جیسا کہ نمبر (1367) اور (2590) میں اس کا بیان گزر چکا ہے، جہاں اسامہ بن زید اللیثی ہی کے کئی طرق بیان ہوئے تھے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4948 سے ماخوذ ہے۔