المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَهْلُ بَيْتِي أَمَانٌ لِأُمَّتِي مِنَ الِاخْتِلَافِ . باب: میرے اہلِ بیت میری امت کے لیے اختلاف سے امان ہیں
حدیث نمبر: 4767
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه وأبو الحسن أحمد بن محمد العَنَزي قالا: حدثنا عثمان بن سعيد الدّارمي، حدثنا علي بن بَحْر بن بَرِّي، حدثنا هشام بن يوسف الصَّنْعاني. وحدثنا أحمد بن سَهْل الفقيه ومحمد بن علي الكاتب البُخارِيّان ببُخارَى، قالا: حدثنا صالح بن محمد بن حَبيب الحافظ، حدثنا يحيى بن مَعِين، حدثنا هشام بن يوسف، حدثني عبد الله بن سليمان النَّوفَلي، عن محمد بن علي بن عبد الله بن عبّاس، عن أبيه، عن ابن عبّاس، قال: قال رسول الله ﷺ: "أحِبُّوا اللهِ لِمَا يَعْذُوكُم به من نِعَمِه، وأحِبُّوني لحُبِّ الله، وأحِبُّوا أهلَ بيتي لحُبِّي" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4716 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اللہ سے اس کی ان نعمتوں کی بنا پر محبت کرو جو وہ تمہیں عطا فرماتا ہے، اور مجھ سے اللہ کی محبت کی خاطر محبت کرو، اور میرے اہل بیت سے میری محبت کی خاطر محبت کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لجهالة عبد الله بن سليمان النَّوفلي، فلم يرو عنه غير هشام بن يوسف الصَّنْعاني، ولم يؤثر توثيقه عن أحدٍ، ومع ذلك حسَّن الترمذيُّ حديثَه هذا!
درجۂ حدیث: اس کی اسناد عبداللہ بن سلیمان النوفلی کی "جہالت" کی وجہ سے "ضعیف" ہے؛ کیونکہ ان سے ہشام بن یوسف الصنعانی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی اور کسی ایک سے بھی ان کی توثیق منقول نہیں۔ اس کے باوجود امام ترمذی نے ان کی اس حدیث کو "حسن" قرار دیا ہے!
فقد أخرجه الترمذي (3789) عن أبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني، عن يحيى بن مَعِين، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے ترمذی (3789) نے ابو داود سلیمان بن اشعث السجستانی سے، از یحییٰ بن معین، اسی اسناد کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی اسناد عبداللہ بن سلیمان النوفلی کی "جہالت" کی وجہ سے "ضعیف" ہے؛ کیونکہ ان سے ہشام بن یوسف الصنعانی کے علاوہ کسی نے روایت نہیں کی اور کسی ایک سے بھی ان کی توثیق منقول نہیں۔ اس کے باوجود امام ترمذی نے ان کی اس حدیث کو "حسن" قرار دیا ہے!
فقد أخرجه الترمذي (3789) عن أبي داود سليمان بن الأشعث السجستاني، عن يحيى بن مَعِين، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: چنانچہ اسے ترمذی (3789) نے ابو داود سلیمان بن اشعث السجستانی سے، از یحییٰ بن معین، اسی اسناد کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4767 سے ماخوذ ہے۔