حدیث نمبر: 4761
حدَّثَناهُ أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه ببغداد، حدثنا أحمد بن زُهير بن حرب، حدثنا أبو سلمة موسى بن إسماعيل، حدثنا عبد الواحد بن زياد، حدثنا أبو فَرْوة، حدثني عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن بن أبي ليلى، أنه سمع عبد الرحمن ابن أبي ليلى يقول: لَقِيَني كعبُ بن عُجْرة، فقال: ألا أُهدي لك هديةً سمعتُها من النبي ﷺ؟ قلت: بلى - قال: - فاهدِها إليّ، قال: سألْنا رسول الله ﷺ فقلنا: يا رسول الله، كيف الصلاةُ عليكم أهلَ البيت؟ قال: "قولوا: اللهم صلِّ على محمدٍ، وعلى آل محمدٍ، كما صليتَ على إبراهيمَ، وعلى آلِ إبراهيمَ، إنك حميدٌ مجيدٌ، اللهم بارِك على محمدٍ، وعلى آل محمدٍ، كما باركتَ على إبراهيمَ، وعلى آلِ إبراهيمَ، إنك حميدٌ مجيدٌ" (1). وقد روى هذا الحديثَ بإسناده وألفاظِه حرفًا بعد حرفٍ الإمامُ محمدُ بنُ إسماعيل البُخاري عن موسى بن إسماعيل في "الجامع الصحيح"، وإنما خَرّجته ليعلَمَ المُستفيدُ أنَّ أهلَ البيتِ والآلِ جميعًا هُم. وأبو فَرْوة: هو عُرْوة بن الحارث الهَمْداني (2) من أوثَق التابعين بالكُوفة.
حافظ طلحہ بابر

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے کہ میری ملاقات کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے ہوئی، انہوں نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں وہ تحفہ نہ دوں جو میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے؟“ میں نے کہا: کیوں نہیں، مجھے وہ تحفہ ضرور دیں۔ انہوں نے فرمایا: ہم نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا کہ اے اللہ کے رسول! آپ یعنی اہل بیت پر درود و سلام بھیجنے کا طریقہ کیا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”یوں کہو: «اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ، وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ» ”اے اللہ! رحمت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر، جیسے تو نے رحمت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، بے شک تو قابلِ تعریف اور بڑی شان والا ہے، اے اللہ! برکت نازل فرما محمد ﷺ پر اور آلِ محمد ﷺ پر، جیسے تو نے برکت نازل فرمائی ابراہیم علیہ السلام پر اور آلِ ابراہیم علیہ السلام پر، بے شک تو قابلِ تعریف اور بڑی شان والا ہے۔““
امام حاکم فرماتے ہیں: امام محمد بن اسماعیل بخاری نے اس حدیث کو انہی اسناد اور الفاظ کے ساتھ حرف بہ حرف اپنی ”جامع صحیح“ میں روایت کیا ہے، میں نے اسے یہاں اس لیے نقل کیا تاکہ علم حاصل کرنے والوں کو معلوم ہو جائے کہ اہل بیت اور آل درحقیقت ایک ہی ہیں۔ اور ابوفروہ یعنی عروہ بن حارث ہمدانی کوفہ کے ثقہ ترین تابعین میں سے ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4761
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي فَرْوة» [ترقيم الرساله 4761] [ترقيم الشركة 4735]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي فَرْوة - واسمه مسلم بن سالم النَّهدي - فهو صدوق لا بأس به، وقد توبع.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اور یہ اسناد ابو فروہ (جن کا نام مسلم بن سالم النہدی ہے) کی وجہ سے "قوی" ہے، وہ صدوق ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں، اور ان کی متابعت کی گئی ہے۔
وأخرجه البخاري (3370) عن قيس بن حفص وموسى بن إسماعيل، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بخاری (3370) نے قیس بن حفص اور موسیٰ بن اسماعیل سے، اسی اسناد کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 30/ (18104) و (18105) و (18127)، والبخاري (4797) و (6357)، ومسلم (406)، وأبو داود (976)، وابن ماجه (904)، والترمذي (483)، والنسائي (1212) و (1213) و (9799)، وابن حبان (912) و (1957) و (1964) من طريق الحكم بن عُتيبة، والنسائي (10119) من طريق مجاهد، كلاهما عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن كعب بن عجرة. وبعضهم يقتصر على ذكر آل إبراهيم دون ذكر إبراهيم، وبعضهم يقتصر على ذكر إبراهيم دون آله.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (30/ 18104، 18105، 18127)، بخاری (4797، 6357)، مسلم (406)، ابو داود (976)، ابن ماجہ (904)، ترمذی (483)، نسائی (1212، 1213، 9799) اور ابن حبان (912، 1957، 1964) نے حکم بن عتیبہ کے طریق سے؛ اور نسائی (10119) نے مجاہد کے طریق سے؛ یہ دونوں عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے، از کعب بن عجرہ تخریج کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے ابراہیم کے ذکر کے بغیر صرف "آل ابراہیم" کے ذکر پر اکتفا کیا، اور بعض نے آل کے بغیر صرف "ابراہیم" کے ذکر پر۔
ورواية الحكم عند النسائي في روايته الأولى وابن حبان في روايته الثانية وكذلك رواية مجاهد كرواية أبي فروة، يعني بذكر إبراهيم وآل إبراهيم جميعًا.
تفصیلِ روایت: نسائی کے ہاں حکم کی پہلی روایت، ابن حبان کے ہاں ان کی دوسری روایت، اور اسی طرح مجاہد کی روایت، یہ سب "ابو فروہ" کی روایت کی طرح ہیں، یعنی ان میں "ابراہیم اور آل ابراہیم" دونوں کا ذکر اکٹھا موجود ہے۔
وأخرجه النسائي (1211) من طريق عمرو بن مرة، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، به.
حوالہ / مصدر: اسے نسائی (1211) نے عمرو بن مرہ کے طریق سے، از عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ، اسی سند سے تخریج کیا ہے۔
(2) كذا جزم المصنف بأنَّ أبا فروة في إسناد حديث كعب بن عجرة هو عروة بن الحارث، وإنما هو مسلم بن سالم النَّهدي كما قيَّده البخاري في "تاريخه" في ترجمة عبد الله بن عيسى بن عبد الرحمن ابن أبي ليلى 5/ 164، وابن أبي حاتم في "الجرح والتعديل" 5/ 126.
فنی نکتہ / تصحیح: مصنف (حاکم) نے اس بات پر جزم کیا ہے کہ کعب بن عجرہ کی حدیث کی اسناد میں ابو فروہ سے مراد "عروہ بن الحارث" ہے، حالانکہ درحقیقت یہ "مسلم بن سالم النہدی" ہیں، جیسا کہ امام بخاری نے اپنی "تاریخ" (5/ 164) میں عبداللہ بن عیسیٰ بن عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کے ترجمہ میں، اور ابن ابی حاتم نے "الجرح والتعدیل" (5/ 126) میں مقید (واضح) کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4761 سے ماخوذ ہے۔