المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَمِنْ مَنَاقِبِ أَهْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - باب: اہلِ بیت کے مناقب — اہلِ بیت کی بعض خصوصیات پر مشتمل احادیث
حدیث نمبر: 4756
حدثنا أبو بكر أحمد بن سَلْمان الفقيه وأبو العباس محمد بن يعقوب، قالا: حدثنا الحسن بن مُكْرَم البزاز، حدثنا عثمان بن عُمر، حدثنا عبد الرحمن بن عبد الله بن دِينار، عن شَريك بن أبي نَمِر، عن عطاء بن يسار، عن أم سَلَمة، قالت: في بيتي نزلَتْ: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرَّجْسَ أَهْلَ البَيتِ﴾ [الأحزاب: 33] قالت: فأرسلَ رسولُ الله ﷺ إلى عليٍّ وفاطمةَ والحسنِ والحسينِ، فقال: "هؤلاء أهلُ بَيتي" (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4705 - على شرط البخاريحافظ طلحہ بابر
ام المومنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میرے گھر میں یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ البَیتِ﴾ ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ تم سے گندگی دور کر دے اے گھر والو! اور تمھیں پاک کر دے۔“ [سورة الأحزاب: 33]، وہ کہتی ہیں کہ پھر رسول اللہ ﷺ نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہم کو بلوایا اور فرمایا: ”یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله لا بأس بهم، لكن الصحيح أنه مرسل كما مضى بيانه برقم (3600)، غير أنَّ له طرقًا أخرى يصحُّ بها تقدَّم تخريجها هناك.
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اس اسناد کے رجال میں کوئی حرج نہیں، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ "مرسل" ہے جیسا کہ نمبر (3600) میں بیان گزر چکا۔ البتہ اس کے دیگر طرق ہیں جن کی وجہ سے یہ "صحیح" قرار پاتی ہے، جن کی تخریج وہاں گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، اس اسناد کے رجال میں کوئی حرج نہیں، لیکن صحیح بات یہ ہے کہ یہ "مرسل" ہے جیسا کہ نمبر (3600) میں بیان گزر چکا۔ البتہ اس کے دیگر طرق ہیں جن کی وجہ سے یہ "صحیح" قرار پاتی ہے، جن کی تخریج وہاں گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4756 سے ماخوذ ہے۔