المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
وَمِنْ مَنَاقِبِ أَهْلِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - باب: اہلِ بیت کے مناقب — اہلِ بیت کی بعض خصوصیات پر مشتمل احادیث
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان المُرادي وبحر بن نصر الخَوْلاني، قالا: حدثنا بِشر بن بكر، حدثنا الأوزاعي، حدثني أبو عمّار، حدثني واثلة بن الأسقع، قال: أتيتُ عليًّا فلم أجِدْه، فقالت لي فاطمة: انطلَقَ إلى رسول الله ﷺ يَدعُوه، فجاء مع رسول الله ﷺ فدخلا ودخلتُ معهما، فدعا رسول الله ﷺ الحسنَ والحسينَ، فأقعد كلَّ واحدٍ منهما على فَخِذِه، وأدنى فاطمةَ من حَجْرِه وزَوجَها، ثم لَفَّ عليهم ثوبًا، وقال: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾، ثم قال: "هؤلاء أهلُ بيتي، اللهمَّ أهلي أحقُّ" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4706 - على شرط مسلمسیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا تو انہیں وہاں نہ پایا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے مجھ سے کہا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو بلانے گئے ہیں، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تشریف لائے اور گھر میں داخل ہوئے تو میں بھی ان کے ساتھ اندر چلا گیا، رسول اللہ ﷺ نے سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو بلایا اور ان دونوں میں سے ہر ایک کو اپنی ایک ران پر بٹھایا، اور سیدہ فاطمہ اور ان کے شوہر (سیدنا علی) کو اپنے قریب کیا، پھر ان پر ایک چادر تان لی اور فرمایا: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيرًا﴾ ”اللہ تو یہی چاہتا ہے کہ اے نبی کے گھر والو! تم سے ناپاکی دور کر دے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے۔“ [سورة الأحزاب: 33]، پھر فرمایا: ”یہ میرے اہل بیت ہیں، اے اللہ! میرے یہ اہل زیادہ حقدار ہیں۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی اسناد "صحیح" ہے۔
وقد تقدَّم برقم (3601) من طريق الوليد بن مَزْيَد عن الأوزاعي.
حوالہ / مصدر: یہ نمبر (3601) پر ولید بن مزید از اوزاعی کے طریق سے گزر چکی ہے۔