المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
ذِكْرُ الْبَيَانِ الْوَاضِحِ أَنَّ أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - . باب: اس بات کی واضح وضاحت کا بیان کہ امیر المؤمنین سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ
حدثني أبو سعيد أحمد بن محمد النَّخَعي، حدثنا عَبْدانُ الأهوازيُّ، حدثنا علي بن المُنذِر، حدثنا محمد بن فُضيل، عن الأعمش، عن أبي وائل: أنَّ عبد الله بن الكَوّاء وشَبَثَ بن رِبْعيّ وناسًا معهما اعتزلوا عليًّا بعد انصرافه من صِفّين إلى الكوفة، لِمَا أنكَرَ عليهم مِن سَبِّ أبي بكر وعمر ﵄ فمَن بعدهُما من أصحاب رسول الله ﷺ، فخالَفُوه وخرجوا عليه، فخرج إليهم عليٌّ وحاجَّهم، ورَجَع عن غَير قِتالٍ (1). وفي حديث أبي إسحاق الفَزَاري عن شُعبْة عن سلمة بن كُهيل عن أبي جُحَيفة زيادةُ ألفاظٍ، منها: أيمانُ عليٍّ: إني لا أُساكِنُكم في بلدةٍ حتى ألقى الله ﷿ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4702 - سكت عنه الذهبي في التلخيصسیدنا ابو وائل سے روایت ہے کہ عبداللہ بن کوا، شبث بن ربعی اور ان کے ساتھ کچھ دیگر لوگوں نے صفیین سے کوفہ واپسی کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے علیحدگی اختیار کر لی، کیونکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما اور ان کے بعد دیگر صحابہ کرام کو برا بھلا کہنے پر ان کی سخت مذمت کی تھی، چنانچہ ان لوگوں نے آپ کی مخالفت کی اور آپ کے خلاف نکل کھڑے ہوئے، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ ان کے پاس تشریف لے گئے اور ان سے دلیل کے ساتھ گفتگو کی اور جنگ کیے بغیر ہی واپس لوٹ آئے۔
امام حاکم فرماتے ہیں کہ ابواسحاق فزاری کی شعبہ سے روایت میں کچھ زائد الفاظ ہیں جن میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی یہ قسم بھی مذکور ہے: «إِنِّي لَا أُسَاكِنُكُمْ فِي بَلْدَةٍ حَتَّى أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ» ”میں تمہارے ساتھ اس شہر میں نہیں رہوں گا یہاں تک کہ میں اللہ عزوجل سے جا ملوں۔“
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کے رجال "ثقہ" ہیں، فنی نکتہ / علّت: لیکن اس خبر میں صفین کے بعد علی رضی اللہ عنہ سے ان لوگوں (خوارج) کے الگ ہونے کی جو علت بیان کی گئی ہے کہ علی نے انہیں ابو بکر و عمر کو برا بھلا کہنے سے روکا تھا، تو یہ بات ان (خوارج) کے عقیدے میں معروف نہیں ہے۔ بلکہ خوارج کے بارے میں معروف بات یہ ہے کہ وہ ابو بکر و عمر کی تعظیم کرتے تھے، جیسا کہ یہ بات زبیر بن عوام کے اپنے بیٹے عبداللہ بن زبیر سے قول میں ثابت ہے جسے ابن عساکر (39/ 497) نے "حسن سند" کے ساتھ ذکر کیا ہے۔ اور رہے وہ لوگ جو ابو بکر و عمر پر طعن کرتے ہیں تو وہ "رافضی" ہیں نہ کہ "خوارج"۔
ثم إنَّ عبدَ الله بن الكَوَّاء وشَبَثَ بنَ ربعيٍّ ممَّن ثبت رجوعُهم وتوبتُهم عن رأي الخوارج.
اہم نکتہ: پھر یہ بھی حقیقت ہے کہ عبداللہ بن الکواء اور شبث بن ربعی ان لوگوں میں سے ہیں جن کا خوارج کی رائے سے رجوع اور توبہ کرنا ثابت ہے۔
(2) رجاله ثقات. ولعله فيما لم يُعثَر عليه من كتابه "السير".
درجۂ حدیث: اس کے رجال "ثقہ" ہیں۔
نوٹ: شاید یہ روایت ان کی کتاب "السیر" کے اس حصے میں ہو جو دستیاب نہیں ہو سکا۔