المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
الرِّوَايَاتُ فِي مَبْلَغِ سِنِّ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ . باب: امیر المؤمنین سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی عمر کے بارے میں وارد روایات
حدیث نمبر: 4745
أخبرني أحمد بن بالَوَيهِ العَفْصي، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا عبّاد بن يعقوب، حدثنا نوح بن دَرّاج، عن محمد بن إسحاق، عن الزُّهْري، أنَّ أسماء الأنصارية قالت: ما رُفع حَجَرٌ بإيلِيَاءَ ليلةَ قُتل عليٌّ إِلَّا وَوُجِد تحته دَمٌ عَبِيطٌ (1). قال الحاكم: قد اختلفتِ الرواياتُ في مَبلغِ سنِّ أمير المؤمنين حين قُتل:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4694 - نوح كذابحافظ طلحہ بابر
اسماء انصاریہ سے روایت ہے کہ جس رات سیدنا علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے، بیت المقدس (ایلیاء) میں جو بھی پتھر اٹھایا جاتا اس کے نیچے سے تازہ اور گہرا خون نکلتا تھا۔
امام حاکم نے کہا: امیر المؤمنین کی شہادت کے وقت ان کی عمر مبارک کے متعلق روایات میں اختلاف پایا جاتا ہے:
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده تالف من أجل نوح بن درّاج، فهو متروك الحديث، وكذّبه ابن مَعِين واتهمه أبو داود بوضع الحديث، وكذا الحاكم نفسه في "المدخل إلى الصحيح" فقال: حدَّث عن الثقات بالموضوعات، واعتمد الذهبي في "تلخيصه" قول ابن مَعِين فيه، فقال: نوح كذاب. قلت: وقد تقدَّم بإسناد آخر ضعيف برقم (4642) غير أنه جعله من قول الزُّهْري لم يسنده عن أسماء الأنصارية.
درجۂ حدیث: اس کی اسناد "نوح بن دراج" کی وجہ سے "تالف" (برباد/سخت ضعیف) ہے۔ وہ "متروک الحدیث" ہے، ابن معین نے اسے جھوٹا کہا اور ابو داود نے اس پر حدیث گھڑنے کا الزام لگایا۔ خود حاکم نے "المدخل الی الصحیح" میں اس کے بارے میں کہا: "اس نے ثقہ راویوں کے حوالے سے موضوع (من گھڑت) روایات بیان کیں"۔ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں ابن معین کے قول پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا: "نوح پرلے درجے کا جھوٹا (کذاب) ہے"۔
نوٹ: میں (محقق) کہتا ہوں: یہ حدیث ایک اور ضعیف سند کے ساتھ پیچھے نمبر (4642) پر گزر چکی ہے، ماسوائے اس کے کہ وہاں اسے زہری کا قول قرار دیا گیا تھا اور اسماء انصاریہ سے مسنداً روایت نہیں کیا گیا تھا۔
درجۂ حدیث: اس کی اسناد "نوح بن دراج" کی وجہ سے "تالف" (برباد/سخت ضعیف) ہے۔ وہ "متروک الحدیث" ہے، ابن معین نے اسے جھوٹا کہا اور ابو داود نے اس پر حدیث گھڑنے کا الزام لگایا۔ خود حاکم نے "المدخل الی الصحیح" میں اس کے بارے میں کہا: "اس نے ثقہ راویوں کے حوالے سے موضوع (من گھڑت) روایات بیان کیں"۔ ذہبی نے اپنی "تلخیص" میں ابن معین کے قول پر اعتماد کرتے ہوئے فرمایا: "نوح پرلے درجے کا جھوٹا (کذاب) ہے"۔
نوٹ: میں (محقق) کہتا ہوں: یہ حدیث ایک اور ضعیف سند کے ساتھ پیچھے نمبر (4642) پر گزر چکی ہے، ماسوائے اس کے کہ وہاں اسے زہری کا قول قرار دیا گیا تھا اور اسماء انصاریہ سے مسنداً روایت نہیں کیا گیا تھا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4745 سے ماخوذ ہے۔