مستدرکِ حاکم
كتاب الطهارة— طہارت کا بیان
فَضِيلَةُ تَحِيَّةِ الْوُضُوءِ باب: وضو کے بعد نفل (تحیۃ الوضو) کی فضیلت۔
أخبرَناه أبو محمد جعفر بن محمد بن نُصَير الخوَّاص، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجَّاج بن مِنْهال، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة. وأخبرني أبو بكر بن عبد الله - واللفظ له - أخبرنا الحسن بن سفيان، حدثنا هُدْبة بن خالد، حدثنا حمَّاد بن سَلَمة، عن أيوب، عن أبي قِلَابة قال: قال شُرَحبيل بن حَسَنةَ: مَن رجلٌ يحدِّثنا عن رسول الله ﷺ؟ فقال عمرو بن عَبَسة: أنا، سمعتُ رسول الله ﷺ لا مرَّةً ولا مرَّتين - حتى عدَّ خمس مرَّات - يقول: "إذا قرَّبَ المسلمُ وَضُوءَه فغَسَلَ كفَّيهِ، خرجت ذنوبُه من بين أصابِعه وأطرافِ أناملِه، فإذا غسل وجهَه، خرجت ذنوبُه من أطرافِ لحيتهِ، فإذا مَسَحَ برأسِه، خرجت ذنوبُه من أطرافِ شعرِه، فإذا غسل رجلَيه، خرجت ذنوبُه من بُطُونِ قَدَميهِ" (1).
ابو قلابہ کہتے ہیں کہ سیدنا شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کون ہے جو ہمیں رسول اللہ ﷺ سے حدیث بیان کرے؟ تو سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں (بیان کرتا ہوں)، میں نے رسول اللہ ﷺ کو ایک یا دو بار نہیں بلکہ پانچ بار (مختلف مواقع پر) یہ فرماتے سنا: ”جب کوئی مسلمان وضو کے لیے پانی قریب کرتا ہے اور اپنی ہتھیلیاں دھوتا ہے تو اس کی انگلیوں کے درمیان اور پوروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب چہرہ دھوتا ہے تو داڑھی کے کناروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، جب سر کا مسح کرتا ہے تو بالوں کے سروں سے گناہ نکل جاتے ہیں، اور جب پاؤں دھوتا ہے تو پاؤں کے تلووں سے گناہ نکل جاتے ہیں۔“
اس کا ایک شاہد امام مسلم کی شرط پر عمرو بن عبسہ ہی سے مروی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے، اگرچہ اس سند کے تمام راوی ثقہ ہیں مگر یہ سند "منقطع" (ٹوٹی ہوئی) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابو قلابہ (جن کا پورا نام عبداللہ بن زید جرمی ہے) کی شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہ سے ملاقات ثابت نہیں ہے (ان کا زمانہ نہیں پایا)، اس حوالے سے ماقبل کی بحث بھی ملاحظہ کریں۔