المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
سَبَبُ تَلْقِيبِ عُمَرَ بِأَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ . باب: حضرت عمرؓ کو امیر المؤمنین کا لقب دیے جانے کی وجہ
ما حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا أحمد بن إبراهيم بن مِلْحان، حدثنا يحيى بن بُكير، حدثنا يعقوب بن عبد الرحمن الإسكنَدراني، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهَاب: أنَّ عمر بن عبد العزيز سأل أبا بكر بن سليمان بن أبي حَثْمة: لأيّ شيءٍ كان يُكتَب: من خليفة رسول الله ﷺ في عهد أبي بكر، ثم كان عُمر يكتبُ أولًا: من خليفة أبي بكر، فمن أولُ من كَتَبَ من أمير المؤمنين؟ قال: حدثتني الشِّفاءُ، وكانت من المهاجِرات الأُوَل: أنَّ عمر بن الخطاب كتب إلى عامِلِ العراق بأن يبعثَ إليه رجلَين جَلْدَين يسألُهما عن العراق وأهلِه، فبعثَ عاملُ العراقِ بلَبيدِ بن ربيعةَ وعَديّ بن حاتم، فلما قدما المدينةَ أناخا راحلتَيهما بفِناءِ المسجدِ، ثم دخلا المسجدَ، فإذا هما بعَمرو بن العاص، فقالا: استأذِن لنا يا عمرو على أمير المؤمنين، فقال عمرو: أنتما والله أصبتُما اسمَه، هو الأمير، ونحن المؤمنون، فوَثَب عمرٌو فدخل على عُمرَ، فقال: السلامُ عليك يا أميرَ المؤمنين، فقال عُمر ما بَدَا لك في هذا الاسم يا ابنَ العاص؟ ربّي يعلمُ لَتَخرُجَنّ مما قلتَ قال: إنَّ لبيدَ بن ربَيعةَ وعَديَّ بن حاتم قَدِمَا فأناخا راحلتَيهما بفِناء المسجد، ثم دخلا عليَّ فقالا لي: استأذِنْ لنا يا عَمرو على أمير المؤمنين، فهما واللهِ أصابا اسمَك، نحن المؤمنون وأنت أميرُنا. قال: فمضى به الكتابُ من يومئذٍ. قال: وكانت الشِّفاءُ جدّةَ أبي بكر بن سليمان (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4480 - صحيحابن شہاب سے روایت ہے کہ عمر بن عبدالعزیز نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے دریافت کیا کہ کس وجہ سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں ”خلیفہ رسول اللہ ﷺ“ لکھا جاتا تھا، پھر عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے ابتدا میں ”خلیفہ ابی بکر“ لکھوایا، تو پھر وہ پہلا شخص کون تھا جس نے سب سے پہلے ”امیر المؤمنین“ لکھا؟ انہوں نے بتایا کہ مجھے شفاء رضی اللہ عنہا نے - جو ابتدائی مہاجرات میں سے تھیں - حدیث بیان کی کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عراق کے گورنر کو لکھا کہ وہ ان کے پاس دو ایسے آدمیوں کو بھیجیں جو مضبوط اور سمجھدار ہوں تاکہ وہ ان سے عراق اور وہاں کے باشندوں کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔ چنانچہ گورنر نے لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم کو بھیجا۔ جب وہ مدینہ پہنچے تو انہوں نے مسجد کے صحن میں اپنی سواریاں بٹھائیں اور مسجد میں داخل ہوئے، وہاں ان کی ملاقات عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے ہوئی۔ انہوں نے کہا: اے عمرو! ہمارے لیے ”امیر المؤمنین“ سے ملاقات کی اجازت طلب کریں۔ عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کی قسم! تم دونوں نے بالکل درست لقب استعمال کیا ہے، وہ امیر ہیں اور ہم مومنین ہیں۔ چنانچہ عمرو بن العاص تیزی سے اٹھے اور سیدنا عمر کے پاس جا کر کہا: السلام علیک یا امیر المؤمنین! سیدنا عمر نے فرمایا: اے ابن العاص! تمہیں اس لقب کا خیال کیسے آیا؟ میرا رب جانتا ہے کہ تمہیں اپنی اس بات کی دلیل دینی ہوگی۔ انہوں نے عرض کیا: لبید بن ربیعہ اور عدی بن حاتم آئے ہیں، انہوں نے اپنی سواریاں مسجد کے صحن میں بٹھائی ہیں، پھر وہ میرے پاس آئے اور کہا: اے عمرو! ہمارے لیے امیر المؤمنین سے اجازت طلب کریں، اللہ کی قسم! ان دونوں نے آپ کا بالکل صحیح لقب پکارا ہے، ہم سب مومنین ہیں اور آپ ہمارے امیر ہیں۔ راوی کہتے ہیں: پس اسی دن سے خط و کتابت میں یہ لقب رائج ہو گیا، اور شفاء ابوبکر بن سلیمان کی دادی تھیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه البخاري في "الأدب المفرد" (1023)، وعمر بن شبة في "تاريخ المدينة" 2/ 678، وابن أبي عاصم في "الآحاد والمثاني" (68)، والطبراني في "الكبير" (48)، وأبو نُعيم في "معرفة الصحابة" (210)، وابن عبد البر في "التمهيد" 10/ 75 - 77، وفي "الاستيعاب" (1697) ص 476، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 44/ 260 و 261 و 262 و 263، وابن الأثير في "أسد الغابة" 3/ 667 من طرق عن يعقوب بن عبد الرحمن، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اس روایت کو بخاری نے "الادب المفرد" (1023)، عمر بن شبہ نے "تاریخ المدینہ" (2/ 678)، ابن ابی عاصم نے "الآحاد والمثانی" (68)، طبرانی نے "الکبیر" (48)، ابو نعیم نے "معرفۃ الصحابۃ" (210)، ابن عبدالبر نے "التمہید" (10/ 75-77) اور "الاستیعاب" (ص 476)، ابن عساکر نے "تاریخ دمشق" (44/ 260-263) اور ابن اثیر نے "اسد الغابۃ" (3/ 667) میں یعقوب بن عبدالرحمن کے مختلف طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔