حدیث نمبر: 4504
وقد حدَّثَنيه أبو بكر محمد بن عَبد الله (1) الفقيه، حدثنا محمد بن حَمْدون بن خالد، حدثنا علي بن عثمان النُّفَيلي، حدثنا إسحاق بن عيسى بن الطبّاع، حدثنا سفيان بن عُيَينة، عن مِسعَر، عن عبد الملك بن عُمير عن رِبعيّ بن حِراش، عن حُذيفة بن اليمان، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "اقتَدُوا باللذين من بَعدِي، أبي بكر وعُمرَ، واهتدُوا بهَدْي عمّار، وبعهدِ ابن أمِّ عَبْدٍ" (2).
هذا حديث مِن أجلِّ ما رُوِيَ في فضائل الشيخين، وقد أقام هذا الإسنادَ عن الثَّوْري ومسعرٍ أبو يحيى الحِمَّاني، وأقامه أيضًا عن مِسعرٍ وكيعٌ وحفصٌ بنُ عمر الأُبُلِّي، ثم قَصَّر بروايته عن ابن عُيَينة الحميديُّ وغيرُه، وأقام الإسنادَ عن ابن عُيَينة إسحاقُ ابن عيسى بن الطبّاع، فثبت بما ذكرنا صحةُ هذا الحديث، وإن لم يُخرجاه. وقد وجدنا له شاهدًا بإسناد صحيح عن عبد الله بن مسعود:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ان دو کی اقتدا کرنا: ابوبکر اور عمر کی، اور عمار کے طریقے سے ہدایت حاصل کرنا، اور ابن ام عبد کے عہد (کی پاسداری) کرنا۔“
یہ حدیث شیخین کے فضائل میں مروی جلیل القدر روایات میں سے ہے، اس کی سند کو سفیان ثوری اور مسعر سے ابو یحییٰ حمانی نے مکمل بیان کیا ہے، اسی طرح مسعر سے وکیع اور حفص بن عمر ابلی نے بھی اسے صحیح طور پر روایت کیا ہے، پھر ابن عیینہ سے روایت کرتے ہوئے حمیدی وغیرہ نے اختصار سے کام لیا لیکن اسحاق بن عیسیٰ بن طباع نے ابن عیینہ سے سند کو مکمل اور درست بیان کیا ہے، چنانچہ ہمارے ذکر کردہ دلائل سے اس حدیث کی صحت ثابت ہے اگرچہ شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور ہمیں اس کے لیے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ایک صحیح سند کے ساتھ شاہد بھی ملا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4504
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح إن شاء الله.» [ترقيم الرساله 4504] [ترقيم الشركة 4481]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في النسخ الخطية إلى: عُبيد الله بالتصغير، وإنما هو عَبد الله مكبرًا، وهو محمد بن عبد الله بن محمد بن الحسين الصِّبْغي، له ترجمة في "أنساب السمعاني" مادة. (الصِّبْغي).
فنی نکتہ / علّت: قلمی نسخوں میں یہ نام تحریف ہو کر ’’عبیداللہ‘‘ (تصغیر) بن گیا ہے، حالانکہ یہ ’’عبداللہ‘‘ (مکبر) ہے۔ یہ محمد بن عبداللہ بن محمد بن الحسین الصبغی ہیں (الانساب للسمعانی)۔
(2) إسناده صحيح إن شاء الله.
درجۂ حدیث: اس کی سند ’’صحیح‘‘ ہے، ان شاء اللہ۔
وأخرجه الطبراني في "الأوسط" (3816) من طريق أبي موسى الأنصاري إسحاق بن موسى الخطمي، عن سفيان بن عُيينة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی (الاوسط 3816) نے ابو موسیٰ الانصاری (اسحاق بن موسیٰ الخطمی) > سفیان بن عیینہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وانظر ما قبله.
نوٹ / توضیح: اور اس سے پہلے والی (روایت) دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4504 سے ماخوذ ہے۔