المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
أَحَادِيثُ فَضَائِلِ الشَّيْخَيْنِ . باب: شیخین کی فضیلت سے متعلق احادیث
حدیث نمبر: 4501
حدَّثَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصَّفّار وأبو محمد عبد الله بن محمد بن إسحاق العَدْل ببغداد، قالا: حدثنا إبراهيم بن إسماعيل السَّوْطي، حدثنا يحيى بن عبد الحميد، حدثنا أبي، عن سفيان بن سعيد ومِسعَر بن كِدامٍ، عن عبد الملك بن عُمير، عن رِبْعيّ بن حِراش، عن حُذيفة قال: قال رسول الله ﷺ: "اقتَدُوا بِاللَّذين من بَعدي، أبي بكرٍ وعُمرَ، واهتَدُوا بهَدْي عمّار، وتَمَسَّكُوا بِعَهْدِ ابن أمِّ عَبْدٍ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میرے بعد ان دو کی اقتدا کرنا: ابوبکر اور عمر کی، اور عمار کے طریقے سے ہدایت حاصل کرنا، اور ابن ام عبد (عبداللہ بن مسعود) کے عہد کو مضبوطی سے تھام لینا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حديث صحيح كسابقه، وهذا إسناد حسن في المتابعات والشواهد من أجل يحيى بن عبد الحميد - وهو الحِمّاني - فهو ضعيف يُعتبر به في المتابعات والشواهد.
درجۂ حدیث: حدیث پچھلی حدیث کی طرح ’’صحیح‘‘ ہے، اور یہ سند یحییٰ بن عبدالحمید (الحمانی) کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں ’’حسن‘‘ ہے، وہ ضعیف ہیں مگر متابعات میں ان کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في "فضائل الصحابة" (293) قال: أُخبِرتُ عن أبي يحيى الحِمّاني، به. فأَبهم عبدُ الله بنُ أحمد الذي حدَّثه بهذا الحديث، ويغلب على الظن أنه يحيى بن عبد الحميد، فإنَّ لعبد الله روايةً عنه، واقتصر على الأمر بالاقتداء بأبي بكر وعمر.
حوالہ / مصدر: اسے عبداللہ بن احمد نے ’’فضائل الصحابہ‘‘ (293) میں تخریج کیا اور کہا: ’’مجھے ابو یحییٰ الحمانی سے خبر دی گئی۔۔۔‘‘
فنی نکتہ / علّت: عبداللہ بن احمد نے اپنے مخبر (جس نے حدیث بتائی) کا نام مبہم رکھا ہے، اور غالب گمان ہے کہ وہ ’’یحییٰ بن عبدالحمید‘‘ ہیں، کیونکہ عبداللہ کی ان سے روایت موجود ہے۔ انہوں نے صرف ابوبکر اور عمر کی اقتدا کے حکم پر اکتفا کیا ہے۔
أحمد 38/ (23276) و (23419)، وابن ماجه (97)، والترمذي (3799 م) من طريق وكيع، وابن ماجه (97) من طريق مؤمَّل بن إسماعيل، كلاهما عن سفيان الثوري، عن عبد الملك بن عُمير، عن مولًى لربعيّ عن ربعيّ عن حذيفة. ومولى ربعي هذا مجهول.
حوالہ / مصدر: احمد (38/ 23276، 23419)، ابن ماجہ (97)، ترمذی (3799 م) نے وکیع سے، اور ابن ماجہ (97) نے مؤمل بن اسماعیل سے، ان دونوں نے سفیان ثوری > عبدالملک بن عمیر > مولیٰ ربعی > ربعی > حذیفہ سے تخریج کیا۔
فنی نکتہ / علّت: اور یہ ربعی کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ’’مجہول‘‘ ہے۔
وعبد الملك بن عمير روايته عن ربعي بن حراش معروفة مشهورة ثابتة محتجٌّ بها في "الصحيحين" وغيرهما، فغير مستبعَدٍ أن يكون عبد الملك سمعه من ربعي ومن مولاه عنه، فتكون رواية سفيان هذه من المزيد في متصل الأسانيد، والله تعالى أعلم. وانظر الرواية الآتية برقم (4503).
اہم نکتہ: عبدالملک بن عمیر کی ربعی بن حراش سے روایت معروف، مشہور اور ثابت ہے اور صحیحین وغیرہ میں اس سے حجت پکڑی گئی ہے۔ لہٰذا یہ بعید نہیں کہ عبدالملک نے اسے ربعی سے بھی سنا ہو اور ان کے مولیٰ سے بھی۔ اس صورت میں سفیان کی یہ روایت ’’مزید فی متصل الاسانید‘‘ کے قبیل سے ہوگی (یعنی متصل سند میں ایک واسطے کا اضافہ)۔ واللہ اعلم۔ (نمبر 4503) پر اگلی روایت دیکھیں۔
درجۂ حدیث: حدیث پچھلی حدیث کی طرح ’’صحیح‘‘ ہے، اور یہ سند یحییٰ بن عبدالحمید (الحمانی) کی وجہ سے متابعات اور شواہد میں ’’حسن‘‘ ہے، وہ ضعیف ہیں مگر متابعات میں ان کا اعتبار کیا جاتا ہے۔
وأخرجه عبد الله بن أحمد في "فضائل الصحابة" (293) قال: أُخبِرتُ عن أبي يحيى الحِمّاني، به. فأَبهم عبدُ الله بنُ أحمد الذي حدَّثه بهذا الحديث، ويغلب على الظن أنه يحيى بن عبد الحميد، فإنَّ لعبد الله روايةً عنه، واقتصر على الأمر بالاقتداء بأبي بكر وعمر.
حوالہ / مصدر: اسے عبداللہ بن احمد نے ’’فضائل الصحابہ‘‘ (293) میں تخریج کیا اور کہا: ’’مجھے ابو یحییٰ الحمانی سے خبر دی گئی۔۔۔‘‘
فنی نکتہ / علّت: عبداللہ بن احمد نے اپنے مخبر (جس نے حدیث بتائی) کا نام مبہم رکھا ہے، اور غالب گمان ہے کہ وہ ’’یحییٰ بن عبدالحمید‘‘ ہیں، کیونکہ عبداللہ کی ان سے روایت موجود ہے۔ انہوں نے صرف ابوبکر اور عمر کی اقتدا کے حکم پر اکتفا کیا ہے۔
أحمد 38/ (23276) و (23419)، وابن ماجه (97)، والترمذي (3799 م) من طريق وكيع، وابن ماجه (97) من طريق مؤمَّل بن إسماعيل، كلاهما عن سفيان الثوري، عن عبد الملك بن عُمير، عن مولًى لربعيّ عن ربعيّ عن حذيفة. ومولى ربعي هذا مجهول.
حوالہ / مصدر: احمد (38/ 23276، 23419)، ابن ماجہ (97)، ترمذی (3799 م) نے وکیع سے، اور ابن ماجہ (97) نے مؤمل بن اسماعیل سے، ان دونوں نے سفیان ثوری > عبدالملک بن عمیر > مولیٰ ربعی > ربعی > حذیفہ سے تخریج کیا۔
فنی نکتہ / علّت: اور یہ ربعی کا مولیٰ (آزاد کردہ غلام) ’’مجہول‘‘ ہے۔
وعبد الملك بن عمير روايته عن ربعي بن حراش معروفة مشهورة ثابتة محتجٌّ بها في "الصحيحين" وغيرهما، فغير مستبعَدٍ أن يكون عبد الملك سمعه من ربعي ومن مولاه عنه، فتكون رواية سفيان هذه من المزيد في متصل الأسانيد، والله تعالى أعلم. وانظر الرواية الآتية برقم (4503).
اہم نکتہ: عبدالملک بن عمیر کی ربعی بن حراش سے روایت معروف، مشہور اور ثابت ہے اور صحیحین وغیرہ میں اس سے حجت پکڑی گئی ہے۔ لہٰذا یہ بعید نہیں کہ عبدالملک نے اسے ربعی سے بھی سنا ہو اور ان کے مولیٰ سے بھی۔ اس صورت میں سفیان کی یہ روایت ’’مزید فی متصل الاسانید‘‘ کے قبیل سے ہوگی (یعنی متصل سند میں ایک واسطے کا اضافہ)۔ واللہ اعلم۔ (نمبر 4503) پر اگلی روایت دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4501 سے ماخوذ ہے۔