حدیث نمبر: 4471
حدثنا محمد بن صالح بن هانئ، حدثنا الفضل بن محمد البَيهقي، حدثنا إبراهيم بن المُنذر الحِزَامي، حدثنا محمد بن فُلَيح، عن موسى بن عُقبة، عن سعد بن إبراهيم، قال: حدثني إبراهيم بن عبد الرحمن بن عَوْف: أنَّ عبد الرحمن بن عوف كان مع عُمر بن الخطاب، وأنَّ محمد بن مَسْلَمة كسر سيفَ الزُّبير، ثم قام أبو بكر فخطبَ الناسَ واعتذرَ إليهم، وقال: والله ما كنتُ حَريصًا على الإمارة يومًا ولا ليلةً قطُّ، ولا كنتُ فيها راغِبًا، ولا سألتُها الله ﷿ في سِرٍّ ولا عَلانية، ولكني أشفقتُ مِن الفتنة، وما لي في الإمارة من راحةٍ، ولكن قُلَدتُ أمرًا عظيمًا ما لي به من طاقةٍ ولا يَدانِ إلَّا بتقوية الله ﷿، ولَودِدْتُ أنَّ أقوى الناسِ عليها مَكاني اليومَ، فقَبِل المهاجِرون منه ما قال وما اعتذَر به قال عليٌّ والزبيرُ: ما غَضِبنا إِلَّا أنّا قد أُخِّرنا عن المُشاورة، وإنا نَرى أبا بكرٍ أحقَّ الناس بها بعدَ رسول الله ﷺ إنه لَصاحِبُ الغارِ، وثاني اثنين، وإنا لَنعلَمُ بشرفه وكُبْرِه، ولقد أمَره رسول الله ﷺ بالصلاةِ بالناسِ وهو حيٌّ (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4422 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عبدالرحمن بن عوف، عمر بن خطاب کے ساتھ تھے اور محمد بن مسلمہ نے زبیر کی تلوار توڑ دی تھی، پھر ابوبکر کھڑے ہوئے اور لوگوں کو خطبہ دیا اور ان سے معذرت کرتے ہوئے فرمایا: ”اللہ کی قسم! میں کبھی بھی نہ تو دن میں اور نہ ہی رات میں امارت کا حریص تھا، نہ میں اس کی رغبت رکھتا تھا اور نہ ہی میں نے اللہ عزوجل سے پوشیدہ یا علانیہ اس کا سوال کیا تھا، لیکن مجھے فتنے کا ڈر تھا، اور امارت میں میرے لیے کوئی راحت نہیں ہے، بلکہ مجھ پر ایک بڑی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے جس کی مجھ میں سکت اور طاقت نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ عزوجل قوت عطا فرمائے، اور میری یہ خواہش تھی کہ میری جگہ آج وہ شخص ہوتا جو اس کی سب سے زیادہ طاقت رکھتا ہے“، پس مہاجرین نے ان کی یہ بات اور معذرت قبول کر لی، اور علی و زبیر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”ہم تو صرف اس بات پر ناراض ہوئے تھے کہ ہمیں مشاورت میں پیچھے رکھا گیا ہے، اور ہم ابوبکر رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ کے بعد اس امارت کا سب سے زیادہ حقدار سمجھتے ہیں، بے شک وہ غار کے ساتھی اور ﴿ثَانِيَ اثْنَيْنِ﴾ [سورة التوبة: 40] ”دو میں سے دوسرے“ ہیں، اور ہم ان کے شرف اور بزرگی کو جانتے ہیں، اور رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں انہیں لوگوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا“۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم / حدیث: 4471
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات
تخریج حدیث «رجاله ثقات، لكنه مرسل إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف تابعي كبير، وذكره بعضهم في الصحابة لكن الأصح أنه تابعي، إلَّا أنه مع إرساله يعدُّ من أقوى المراسيل لجلالة إبراهيم.» [ترقيم الرساله 4471] [ترقيم الشركة 4448] [ترقيم العلميه 4422]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات، لكنه مرسل إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف تابعي كبير، وذكره بعضهم في الصحابة لكن الأصح أنه تابعي، إلَّا أنه مع إرساله يعدُّ من أقوى المراسيل لجلالة إبراهيم.
درجۂ حدیث: اس کے رجال ثقہ ہیں لیکن یہ ’’مرسل‘‘ ہے۔
فنی نکتہ / علّت: ابراہیم بن عبدالرحمن بن عوف کبار تابعین میں سے ہیں۔ بعض نے انہیں صحابہ میں ذکر کیا ہے لیکن صحیح یہ ہے کہ وہ تابعی ہیں۔
اہم نکتہ: تاہم ان کی مرسل روایت ابراہیم کی جلالت شان کی وجہ سے ’’اقویٰ المراسیل‘‘ میں شمار ہوتی ہے۔
وأخرجه البيهقي في "السنن الكبرى" 8/ 152، وفي الاعتقاد ص 350 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی نے ’’السنن الکبریٰ‘‘ 8/ 152 اور ’’الاعتقاد‘‘ ص 350 میں ابو عبداللہ الحاکم سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وهو في "مغازي موسى بن عقبة" برواية إسماعيل بن إبراهيم بن عقبة عنه كما في "منتخبه" لابن قاضي شُهْبة (19).
حوالہ / مصدر: یہ موسیٰ بن عقبہ کی ’’المغازی‘‘ میں اسماعیل بن ابراہیم بن عقبہ کی روایت سے موجود ہے، جیسا کہ ابن قاضی شہبہ کے ’’المنتخب‘‘ (19) میں ہے۔
الكُبْر: القُعدُد في النسب.
نوٹ / توضیح: ’’الکُبْر‘‘: نسب میں بزرگی یا بڑائی (شرف)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4471 سے ماخوذ ہے۔