المستدرك على الصحيحين
كتاب معرفة الصحابة رضي الله تعالى عنهم— صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی معرفت کا بیان
خِلَافَةُ أَبِي بَكْرٍ بِتَأْيِيدِ عُمَرَ بَعْدِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ - . باب: نبی کریم ﷺ کے بعد حضرت عمرؓ کی تائید سے حضرت ابو بکرؓ کی خلافت قائم ہوئی
حدیث نمبر: 4472
حدثنا أبو العبّاس محمد بن يعقوب، حدثنا أبو البَخْتَري عبد الله بن محمد بن شاكر، حدثنا حسين بن علي الجعفي، عن زائدة، عن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، قال: لما قُبِضَ رسولُ الله ﷺ وقالت الأنصارُ: مِنّا أميرٌ ومنكم أميرٌ، قال: فأتاهم عمرُ فقال: يا معشر الأنصار، ألستم تعلمون أنَّ رسول الله ﷺ قد أمَر أبا بكر يؤمُّ الناسّ، فأيُّكم تطيبُ نفسُه أن يتقدَّم أبا بكر؟ فقالت الأنصار: نعوذُ بالله أن نتقّدمَ أبا بكر (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4423 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ کا وصال ہوا اور انصار نے کہا کہ ایک امیر ہم میں سے ہوگا اور ایک امیر تم (مہاجرین) میں سے ہوگا، تو عمر رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور فرمایا: ”اے گروہِ انصار! کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں کی امامت کا حکم دیا تھا، تو تم میں سے کس کا دل یہ گوارا کرے گا کہ وہ ابوبکر سے آگے بڑھے؟“ اس پر انصار نے کہا: ”ہم ابوبکر سے آگے بڑھنے سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں“۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) خبر صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل عاصم - وهو ابن أبي النَّجُود، ويقال له أيضًا: ابن بَهْدلة - لكن تابعه إسماعيل بن أبي خالد عند أبي بكر الآجُرّي في "الشريعة" (1198)، وابنِ عساكر في "تاريخ دمشق" 30/ 272، وغيرهما زائدة: هو ابن قُدامة، وزِرٌّ: هو ابن حُبيش.
درجۂ حدیث: خبر صحیح ہے، اور یہ سند عاصم (ابن ابی النجود / ابن بہدلہ) کی وجہ سے ’’حسن‘‘ ہے۔
متابعات و شواہد: لیکن اسماعیل بن ابی خالد نے (آجری: الشریعہ 1198، ابن عساکر: 30/ 272 وغیرہ میں) ان کی متابعت کی ہے۔ زائدہ: یہ ابن قدامہ ہیں۔ زرّ: یہ ابن حبیش ہیں۔
وأخرجه أحمد 1/ (133) و 6 / (3765) عن حُسين بن علي الجُعفي، والنسائي (855) عن إسحاق بن إبراهيم - وهو المعروف بابن راهويه - وهناد بن السَّرِيّ، عن حُسين بن علي الجُعفي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 1/ (133) اور 6/ (3765) نے حسین بن علی الجعفی سے، اور نسائی (855) نے اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) اور ہناد بن السری > حسین بن علی الجعفی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 1 / (133) و 6 / (3842) عن معاوية بن عمرو، عن زائدة بن قُدامة، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 1/ (133) اور 6/ (3842) نے معاویہ بن عمرو > زائدہ بن قدامہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درجۂ حدیث: خبر صحیح ہے، اور یہ سند عاصم (ابن ابی النجود / ابن بہدلہ) کی وجہ سے ’’حسن‘‘ ہے۔
متابعات و شواہد: لیکن اسماعیل بن ابی خالد نے (آجری: الشریعہ 1198، ابن عساکر: 30/ 272 وغیرہ میں) ان کی متابعت کی ہے۔ زائدہ: یہ ابن قدامہ ہیں۔ زرّ: یہ ابن حبیش ہیں۔
وأخرجه أحمد 1/ (133) و 6 / (3765) عن حُسين بن علي الجُعفي، والنسائي (855) عن إسحاق بن إبراهيم - وهو المعروف بابن راهويه - وهناد بن السَّرِيّ، عن حُسين بن علي الجُعفي، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 1/ (133) اور 6/ (3765) نے حسین بن علی الجعفی سے، اور نسائی (855) نے اسحاق بن ابراہیم (ابن راہویہ) اور ہناد بن السری > حسین بن علی الجعفی سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 1 / (133) و 6 / (3842) عن معاوية بن عمرو، عن زائدة بن قُدامة، به.
حوالہ / مصدر: اسے احمد 1/ (133) اور 6/ (3842) نے معاویہ بن عمرو > زائدہ بن قدامہ سے اسی سند کے ساتھ تخریج کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4472 سے ماخوذ ہے۔