حدیث نمبر: 44
حدثنا بصِحَّة ما ذكرتُه أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى. وأخبرني أبو بكر بن عبد الله، حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن خَلَّاد الباهلي، حدثنا يحيى بن سعيد، عن شعبة، عن سلمة بن كُهَيل، عن عيسى بن عاصم، عن زِرٍّ، عن عبد الله، عن النبي ﷺ قال: "الطِّيَرةُ من الشِّرك، وما مِنّا، ولكنَّ الله يُذهِبُه بالتوكُّل" (1).
هذا حديثٌ صحيحٌ سندُه، ثقاتٌ رواتُه، ولم يُخرجاه. وعيسى بن عاصم الأسدي قد روى أيضًا عن عَدِيِّ بن ثابت وغيره، وقد روى عنه شعبة وجرير بن حازم ومعاوية بن صالح وغيرهم.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بدشگونی شرک میں سے ہے، اور ہم میں سے کوئی ایسا نہیں (جس کے دل میں کچھ نہ آئے) لیکن اللہ تعالیٰ اسے توکل کے ذریعے دور فرما دیتا ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں، تاہم ان دونوں (امام بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور عیسیٰ بن عاصم الاسدی نے عدی بن ثابت اور دیگر سے بھی روایات لی ہیں، اور ان سے شعبہ، جریر بن حازم اور معاویہ بن صالح وغیرہ نے روایت کی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح كسابقه. ونقل الترمذي بإثر الحديث عن البخاري عن سليمان بن حرب في قوله هذا الحديث: "وما منَّا، ولكن الله يذهبه بالتوكل" قال: هذا عندي قول عبد الله بن مسعود!
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند پچھلی کی طرح "صحیح" ہے۔ ترمذی نے بخاری کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سلیمان بن حرب نے کہا: "وما منا..." کے الفاظ میرے نزدیک عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول (مدرج) ہیں۔
درجۂ حدیث: (1) اس کی سند پچھلی کی طرح "صحیح" ہے۔ ترمذی نے بخاری کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ سلیمان بن حرب نے کہا: "وما منا..." کے الفاظ میرے نزدیک عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول (مدرج) ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 44 سے ماخوذ ہے۔