حدیث نمبر: 4360
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، عن ابن إسحاق (3)، عن عثمان بن عبد الرحمن، عن عائشة بنت سعد، عن أبيها سعد بن أبي وقاص، قال: لما جالَ الناسُ عن رسول الله ﷺ تلك الجولة يوم أُحُدٍ، تَنحَّيتُ، فقلت: أذُودُ عن نفسي، فإما أن أستشهَد، وإما أن أنجو حتى ألقى رسول الله ﷺ، فبينا أنا كذلك إذا برجُلٍ مُخَمِّرٍ وجهَه ما أَدري مَن هو، فأقبل المُشركون حتى قلتُ: قد رَكِبُوه، ملأ يده من الحصى، ثم رمى به في وجوههم فتنكَّبوا على أعقابهمُ القَهْقَرى، حتى يأتُوا الجَبَلَ، ففعل ذلك مرارًا، ولا أدري من هو وبيني وبينه المقدادُ بن الأسود، فبينا أنا أُريدُ أن أسأل المقداد عنه إذ قال المِقدادُ: يا سعدُ، هذا رسول الله ﷺ يَدعوك، فقلت: وأين هو؟ فأشار لى المقداد إليه، فقمت وكأنه لم يُصِبْني شيءٌ من الأذى، فقال رسول الله ﷺ: "أين كنتَ اليومَ يا سعدُ؟ " فقلتُ: حيث رأيت يا رسول الله، فأجلسني أمامه، فجعلْتُ أرمي وأقولُ: اللهم سهمُك فازم به عَدُوَّك، ورسولُ الله ﷺ يقول: "اللهم استجب لسعدٍ، اللهم سَدِّد لسعد رَمْيتَه، إيها سعدُ، فداك أبي وأمي"، فما من سهمٍ أرمي به إِلَّا قالَ رسولُ الله ﷺ: "اللهمَّ سَدِّدْ رَمْيته، وأجِبْ دعوته، إيهًا سعدُ"، حتى إذا فرغتُ مِن كِنانتي نَثَرَ رسول الله ﷺ ما في كنانته فنَبَلَني سَهمًا نَضِيًّا، قال: وهو الذي قد رِيْشَ، وكان أشدَّ من غيره (1). قال الزُّهْري: إنَّ السِّهام التي رمَى بها سعدٌ يومئذٍ كانت ألف سهمٍ.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4314 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب احد کے دن لوگ رسول اللہ ﷺ کے پاس سے منتشر ہو گئے تو میں ایک طرف ہو گیا اور میں نے (دل میں) کہا: میں اپنا دفاع کروں گا، یا تو میں شہید ہو جاؤں گا یا پھر نجات پا کر رسول اللہ ﷺ سے جا ملوں گا، میں اسی کیفیت میں تھا کہ اچانک ایک شخص نظر آیا جس نے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا تھا، مجھے معلوم نہ تھا کہ وہ کون ہیں، اتنے میں مشرکوں نے یلغار کر دی یہاں تک کہ میں نے سوچا کہ وہ اس شخص پر غالب آ جائیں گے، مگر اس شخص نے اپنی مٹھی کنکریوں سے بھری اور ان کے چہروں پر ماری جس سے وہ پیٹھ پھیر کر الٹے پاؤں پہاڑ کی طرف بھاگنے پر مجبور ہو گئے، انہوں نے ایسا کئی بار کیا، میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کون ہیں جبکہ میرے اور ان کے درمیان مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ تھے، میں مقداد سے ان کے بارے میں پوچھنا ہی چاہتا تھا کہ مقداد رضی اللہ عنہ نے کہا: اے سعد! یہ رسول اللہ ﷺ ہیں جو تمہیں بلا رہے ہیں، میں نے پوچھا: وہ کہاں ہیں؟ تو مقداد رضی اللہ عنہ نے ان کی طرف اشارہ کیا، میں کھڑا ہوا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے مجھے کوئی تکلیف پہنچی ہی نہ ہو، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے سعد! آج تم کہاں تھے؟“ میں نے عرض کیا: وہیں جہاں آپ نے مجھے دیکھا، اے اللہ کے رسول! پھر آپ ﷺ نے مجھے اپنے سامنے بٹھا لیا، میں تیر چلانے لگا اور یہ دعا کرنے لگا: «اللَّهُمَّ سَهْمُكَ فَازِمْ بِهِ عَدُوَّكَ» ”اے اللہ! یہ تیرا تیر ہے، اس کے ذریعے اپنے دشمن کو ہلاک کر دے“، اور رسول اللہ ﷺ فرما رہے تھے: «اللَّهُمَّ اسْتَجِبْ لِسَعْدٍ، اللَّهُمَّ سَدِّدْ لِسَعْدٍ رَمْيَتَهُ، إِيهًا سَعْدُ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» ”اے اللہ! سعد کی دعا قبول فرما، اے اللہ! سعد کے نشانے کو درست فرما، اے سعد! خوب تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں“، میں جو بھی تیر چلاتا رسول اللہ ﷺ یہی فرماتے: ”اے اللہ! اس کا نشانہ درست کر دے اور اس کی دعا قبول فرما، اے سعد! خوب تیر چلاؤ“، یہاں تک کہ جب میں اپنے ترکش سے فارغ ہو گیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ترکش کی چیزیں بکھیر دیں اور مجھے ایک عمدہ اور تیز دھار والا تیر عطا فرمایا، راوی کہتے ہیں: وہ ایسا تیر تھا جس پر پر لگے ہوئے تھے اور وہ دوسرے تیروں کے مقابلے میں زیادہ تیز تھا، امام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس دن سعد رضی اللہ عنہ نے جو تیر چلائے ان کی تعداد ایک ہزار تھی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب المغازي والسرايا / حدیث: 4360
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، عثمان بن عبد الرحمن» [ترقيم الرساله 4360] [ترقيم الشركة 4337] [ترقيم العلميه 4314]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) كذا وقع ذكر ابن إسحاق في إسناد الخبر في النسخ الخطية، ولا يصح ذكره في الإسناد، لأنَّ هذا الخبر من زيادات يونس بن بُكير، فقد رواه البزار عن أحمد بن عبد الجبار - وهو العُطاردي - فلم يذكره، على أنه لا تعرف لابن إسحاق رواية عن عثمان بن عبد الرحمن الوقاصي أصلًا، وروى يونس بن بكير عن عثمان هذا عدة روايات، فهو من شيوخه لا من شيوخ ابن إسحاق، والله ولي التوفيق.
فنی نکتہ: قلمی نسخوں میں سند کے اندر ابن اسحاق کا ذکر اسی طرح آیا ہے، لیکن سند میں ان کا ذکر صحیح نہیں ہے؛ کیونکہ یہ روایت یونس بن بکیر کی "زیادات" میں سے ہے۔ چنانچہ بزار نے اسے احمد بن عبدالجبار (العطاردی) سے روایت کیا تو ابن اسحاق کا ذکر نہیں کیا۔ مزید برآں، ابن اسحاق کی عثمان بن عبدالرحمن الوقاصی سے سرے سے کوئی روایت معروف ہی نہیں ہے، جبکہ یونس بن بکیر نے اس عثمان سے کئی روایات لی ہیں، لہذا یہ یونس کے شیوخ میں سے ہے نہ کہ ابن اسحاق کے شیوخ میں سے۔ واللہ ولی التوفیق۔
(1) إسناده ضعيف جدًّا، عثمان بن عبد الرحمن - وهو الوقاصي - متروك الحديث، بل قد كذبه ابن معين.
درجۂ حدیث: اس کی سند انتہائی ضعیف (ضعیف جدًا) ہے؛ عثمان بن عبدالرحمن (الوقاصی) "متروک الحدیث" ہے، بلکہ ابن معین نے تو اسے جھوٹا (کذاب) قرار دیا ہے۔
وأخرجه البزار (1213) عن أحمد بن عبد الجبار، بهذا الإسناد.
تخریج: اسے بزار (1213) نے احمد بن عبدالجبار سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرج حمزة بن يوسف السهمي في "تاريخ جرجان" ص 322 من طريق عمران بن سوار، عن عثمان بن عبد الرحمن، عن عائشة بنت سعد، عن أبيها، قال: والله إني لرابع في الإسلام، ولقد جمع لي رسول الله ﷺ أبويه يوم أحد، فقال لي: "ارمه يا سعد، فداك أبي وأمي، اللهم سدد سهمه وأجب دعوته".
تخریج: حمزہ بن یوسف السہمی نے "تاریخ جرجان" (ص 322) میں عمران بن سوار عن عثمان بن عبدالرحمن عن عائشہ بنت سعد عن ابیہا (سعد بن ابی وقاص) کے طریق سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے فرمایا: "اللہ کی قسم میں اسلام لانے والا چوتھا شخص ہوں، اور رسول اللہ ﷺ نے احد کے دن میرے لیے اپنے والدین کو جمع فرمایا (یعنی دونوں کے فدا ہونے کی بات کی)، پس آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا: 'اے سعد تیر چلاؤ! میرے ماں باپ تم پر قربان، اے اللہ اس کا نشانہ سیدھا کر دے اور اس کی دعا قبول فرما'۔"
وقد تقدم منه قوله ﷺ لسعد: "ارم فداك أبي وأمي" برقم (2503) من طريق عامر بن سعد عن أبيه، وخرجناه هناك من طريق أخرى عن سعد أيضًا.
ℹ حوالہ: اس میں سے نبی کریم ﷺ کا سعد رضی اللہ عنہ کو یہ فرمانا: "تیر چلاؤ، میرے ماں باپ تم پر قربان" پہلے نمبر (2503) پر عامر بن سعد عن ابیہ کے طریق سے گزر چکا ہے، اور وہاں ہم نے اسے سعد ہی سے دوسرے طریق سے بھی تخریج کیا ہے۔
وسيأتي منه دعاؤه ﷺ لسعد بسَداد الرمية وإجابة الدعوة برقم (6238) و (6242) من طريق قيس بن أبي حازم، عن سعد.
ℹ حوالہ: اور اس میں سے نبی کریم ﷺ کا سعد کے لیے نشانے کی درستی اور دعا کی قبولیت کی دعا کرنا آگے نمبر (6238) اور (6242) پر قیس بن ابی حازم عن سعد کے طریق سے آئے گا۔
قوله: "إيهًا" كلمة تصديق وارتضاء.
لغوی تشریح: لفظ "إيهًا" (ایھاً) تصدیق اور پسندیدگی (رضامندی) کا کلمہ ہے۔
وقوله: "نَبَلني" أي: أعطاني النَّبل.
لغوی تشریح: اور ان کا قول "نَبَلني" کا مطلب ہے: مجھے تیر پکڑائے۔
وقوله: "سهمًا نضيًّا، وهو الذي قد رِيْشَ" غريبٌ، لأنَّ الذي في كتب اللغة أنَّ السهم النّضِيَّ هو الذي ليس له به رِيْشٌ ولا نَصْلٌ، فإذا رِيْشَ فهو مَرِيش، فإذا لم يُرَش فهو أقذُّ. والسهم النَّضي: الهزيل لكثرة البَرْي والنحت.
تحقیق: ان کا یہ قول "سهمًا نضيًّا (ایسا تیر) جو پر دار تھا" عجیب (غریب) ہے؛ کیونکہ کتبِ لغت میں یہ ہے کہ "السهم النضي" وہ تیر ہوتا ہے جس پر نہ پر ہو اور نہ پھل (نوک)۔ جب اس پر پر لگائے جائیں تو اسے "مریش" کہتے ہیں، اور اگر پر نہ ہوں تو "أقذ"۔ اور "السهم النضي" اس تیر کو بھی کہتے ہیں جو بار بار تراشنے اور چھیلنے کی وجہ سے پتلا ہو گیا ہو۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4360 سے ماخوذ ہے۔