المستدرك على الصحيحين
كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة— رسول اللہ ﷺ کی ان نشانیوں (معجزات) کا ذکر جو دلائلِ نبوت میں سے ہیں۔
هِجْرَةُ عُثْمَانَ مَعَ رُقَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا إِلَى الْحَبَشَةِ باب: حضرت عثمانؓ اور حضرت رقیہؓ کی حبشہ کی طرف ہجرت
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: قال أبو طالبٍ أبياتًا للنجاشيِّ يَحضُّهم على حُسْن جوارهم والدَّفْع عنهم: تَعَلَّمُ خِيارَ الناسِ أن مُحمدًا … وزيرٌ لِمُوسى والمسيحِ ابن مَريمِ أتى بهُدًى مثلَ الذي أتَيَا به … فكلٌّ بأمرِ اللهِ يَهدي ويَعصِمُ وإنكمُ تتلونَه في كتابِكُمْ … بصِدقِ حديثٍ لا حديثِ المُتَرجِّمِ وإنّك ما تَأتيكَ منها عصابةٌ … بفضلِكَ إِلّا أُرجِعُوا بالتَّكرُّمِ (1)
ابن اسحاق سے روایت ہے کہ ابو طالب نے نجاشی کے متعلق چند اشعار کہے جن میں انہیں مسلمانوں کے ساتھ حسنِ جوار اور ان کی مدافعت پر ابھارا گیا تھا: ”اے لوگوں میں بہترین شخص! یہ جان لیجیے کہ محمد ﷺ، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے معین و مددگار (اسی مشن کے وارث) ہیں، وہ وہی ہدایت لے کر آئے ہیں جو وہ دونوں لائے تھے، پس ہر ایک اللہ کے حکم سے ہدایت دیتا اور (گناہوں سے) بچاتا ہے، اور تم اپنی کتاب میں بھی اسے سچی گفتگو کے ساتھ پاتے ہو نہ کہ کسی مترجم کی (تحریف شدہ) گفتگو، اور تمہارے پاس ان مسلمانوں کی جو بھی جماعت تمہارے فضل کی وجہ سے آئے گی وہ عزت و تکریم کے ساتھ ہی لوٹے گی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
حوالہ / مصدر: (1) یہ روایت ابن اسحاق کی "السیرۃ النبویۃ" میں یونس بن بکیر (298) کی روایت میں موجود ہے۔