حدیث نمبر: 4293
فحدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبّار، حدثنا يونس بن بُكير، عن ابن إسحاق، قال: قال أبو طالبٍ أبياتًا للنجاشيِّ يَحضُّهم على حُسْن جوارهم والدَّفْع عنهم: تَعَلَّمُ خِيارَ الناسِ أن مُحمدًا … وزيرٌ لِمُوسى والمسيحِ ابن مَريمِ أتى بهُدًى مثلَ الذي أتَيَا به … فكلٌّ بأمرِ اللهِ يَهدي ويَعصِمُ وإنكمُ تتلونَه في كتابِكُمْ … بصِدقِ حديثٍ لا حديثِ المُتَرجِّمِ وإنّك ما تَأتيكَ منها عصابةٌ … بفضلِكَ إِلّا أُرجِعُوا بالتَّكرُّمِ (1)
حافظ طلحہ بابر

ابن اسحاق سے روایت ہے کہ ابو طالب نے نجاشی کے متعلق چند اشعار کہے جن میں انہیں مسلمانوں کے ساتھ حسنِ جوار اور ان کی مدافعت پر ابھارا گیا تھا: ”اے لوگوں میں بہترین شخص! یہ جان لیجیے کہ محمد ﷺ، موسیٰ اور عیسیٰ بن مریم علیہما السلام کے معین و مددگار (اسی مشن کے وارث) ہیں، وہ وہی ہدایت لے کر آئے ہیں جو وہ دونوں لائے تھے، پس ہر ایک اللہ کے حکم سے ہدایت دیتا اور (گناہوں سے) بچاتا ہے، اور تم اپنی کتاب میں بھی اسے سچی گفتگو کے ساتھ پاتے ہو نہ کہ کسی مترجم کی (تحریف شدہ) گفتگو، اور تمہارے پاس ان مسلمانوں کی جو بھی جماعت تمہارے فضل کی وجہ سے آئے گی وہ عزت و تکریم کے ساتھ ہی لوٹے گی۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة / حدیث: 4293
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4293] [ترقيم الشركة 4270]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) هو في "السيرة النبوية" لابن إسحاق برواية يونس بن بُكير (298).
حوالہ / مصدر: (1) یہ روایت ابن اسحاق کی "السیرۃ النبویۃ" میں یونس بن بکیر (298) کی روایت میں موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4293 سے ماخوذ ہے۔