حدیث نمبر: 4292
أخبرني إسماعيلُ بن محمد الشَّعْراني، حدثنا جَدِّي، حدثنا إبراهيم بن المُنذِر الحِزامي، حدثنا محمد بن فُلَيح، عن موسى بن عُقبة، عن ابن شِهَابٍ: أَنَّ عُثمانَ بن عفّان وامرأتَه رُقَيّة بنتَ رسولِ الله ﷺ خَرَجا مُهاجِرَين من مكة إلى الحبشة الهجرةَ الأولى، ثم قَدِما على رسول الله ﷺ مَكةَ، ثم هاجَرا إلى المدينة (3). قد اتفقَ الشيخانِ على إخراج حديث شعيب بن أبي حمزة (4) وغيره، عن الزُّهْري، عن عُرْوة، عن عبيد الله بن عَدِيّ، عن المسور بن مَخْرَمة، في خروج عثمان بن عفّان إلى أرض الحبشة، وساقا الحديثَ بطُولِه، فلذلك اقتصرتُ على روايةِ موسى بن عُقبة عن ابن شِهَاب. وذكر ابن إسحاق في المَغَازي: أنَّ رُقيّة بنت رسولِ الله ﷺ فيما ذَكَرُوا، لم يُرَ في العَرَبِ ولا في الحَبَشِ أحسنُ منها.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4246 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن شہاب زہری سے روایت ہے کہ سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ اور ان کی اہلیہ (رسول اللہ ﷺ کی صاحبزادی) سیدہ رقیہ رضی اللہ عنہا مکہ سے حبشہ کی طرف پہلی ہجرت کر کے نکلے، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس مکہ واپس آ گئے اور پھر (دوبارہ) مدینہ کی طرف ہجرت کی۔
شیخین نے شعیب بن ابی حمزہ وغیرہ کی ابن شہاب زہری سے روایت کردہ حدیث عثمان رضی اللہ عنہ کے ارضِ حبشہ کی طرف نکلنے کے متعلق بالاتفاق نقل کی ہے اور پوری طویل حدیث ذکر کی ہے، اسی لیے میں نے ابن شہاب سے موسیٰ بن عقبہ کی روایت پر اکتفا کیا ہے۔ ابن اسحاق نے مغازی میں ذکر کیا ہے کہ لوگوں کے بقول پورے عرب اور حبشہ میں رقیہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کوئی حسین نہیں تھا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : آيات رسول الله صلى الله عليه وسلم التي في دلائل النبوة / حدیث: 4292
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 4292] [ترقيم الشركة 4269] [ترقيم العلميه 4246]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) رجاله ثقات، وابن شهاب - وهو الزُّهْري - إنما أخذه عن جماعة وهم أبو بكر بن عبد الرحمن بن الحارث وسعيد بن المسيب وعروة كما في "التاريخ الأوسط" للبخاري (3)، و "أحكام القرآن" للطحاوي (410) وقال الطحاوي بإثره: منقطعُ ابن المسيّب يقوم مقام المتصل.
فنی نکتہ / علّت: (3) اس کے رجال "ثقہ" ہیں۔ ابن شہاب (زہری) نے اسے ایک جماعت سے اخذ کیا ہے جن میں ابو بکر بن عبدالرحمٰن بن الحارث، سعید بن مسیب اور عروہ شامل ہیں، جیسا کہ بخاری کی "التاریخ الاوسط" (3) اور طحاوی کی "احکام القرآن" (410) میں ہے۔ اور طحاوی نے اس کے بعد فرمایا: "ابن مسیب کی منقطع (مرسل) روایت متصل کے قائم مقام ہوتی ہے۔"
(4) هذا وهمٌ منه، لأنَّ البخاري وحده أخرج هذا الحديث دون مسلم، وهو عند البخاري برقم (3927) معلقًا عن بشر بن شعيب بن أبي حمزة عن أبيه، وموصولًا برقم (3696) من طريق يونس بن يزيد، وبرقم (3872) و (3927) من طريق معمر، ثلاثتهم عن الزُّهْري.
نوٹ / وہم: (4) یہ مصنف (حاکم) کا "وہم" ہے، کیونکہ اس حدیث کی تخریج صرف امام بخاری نے کی ہے، مسلم نے نہیں کی۔ یہ بخاری کے ہاں (رقم 3927 پر) بشر بن شعیب بن ابی حمزہ عن ابیہ کے طریق سے "تعلیقاً" مروی ہے، اور (رقم 3696 پر) یونس بن یزید کے طریق سے اور (رقم 3872 اور 3927 پر) معمر کے طریق سے "موصولاً" مروی ہے۔ یہ تینوں اسے زہری سے روایت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4292 سے ماخوذ ہے۔