حدیث نمبر: 4186
أخبرنا أبو زكريا يحيى بن محمد العَنْبري، حدثنا أبو عبد الله البُوشَنْجي، حدثنا أحمد بن حنبل، حدثني حجّاج، عن أبي مَعْشَر، عن محمد بن كعب، قال: بَلَغَنا أنَّ سليمان بن داود كان عسكَرُه مئة فَرْسَخٍ: خمسة وعشرون منها للإنس، وخمسة وعشرون للجِنّ، وخمسة وعشرون للوَحْش، وخمسة وعشرون للطَّير، وكان له ألفُ بيتٍ من قَواريرَ على الخَشَبِ، فيها ثلاث مئةِ صَرِيحةٍ، وسبع مئةِ سُرِّيّة، فأَمر الريحَ العاصِفَ فرفَعَتْه، فأَمر الريحَ فسارتْ به، فأوحى اللهُ إليه وهو يسير بين السماء والأرض: إني قد زِدْتُ في مُلكِكَ أنه لا يَتكلَّمُ أحدٌ من الخلائق بشيءٍ إلّا جاءت الريحُ فأخبرتْكَ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4141 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

محمد بن کعب سے روایت ہے، انہوں نے کہا: ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ سلیمان بن داود علیہما السلام کا لشکر سو فرسخ (تک پھیلا ہوا) تھا: جن میں سے پچیس انسانوں کے لیے، پچیس جنوں کے لیے، پچیس جنگلی جانوروں کے لیے اور پچیس پرندوں کے لیے تھے۔ ان کے پاس لکڑی پر شیشے کے ایک ہزار گھر تھے، جن میں تین سو آزاد بیویاں اور سات سو لونڈیاں تھیں۔ پس انہوں نے تیز و تند ہوا کو حکم دیا تو اس نے انہیں اٹھا لیا، پھر انہوں نے ہوا کو حکم دیا تو وہ انہیں لے کر چل پڑی۔ پس جب وہ آسمان اور زمین کے درمیان چل رہے تھے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: ”میں نے تمہاری بادشاہت میں یہ اضافہ کر دیا ہے کہ مخلوق میں سے کوئی بھی کسی چیز کے بارے میں بات نہیں کرے گا مگر ہوا آ کر تمہیں اس کی خبر دے دے گی۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4186
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف أبي معشر: وهو نَجيح بن عبد الرحمن السِّنْدي. حجاج: هو ابن محمد المِصِّيصي.» [ترقيم الرساله 4186] [ترقيم الشركة 4163] [ترقيم العلميه 4141]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف أبي معشر: وهو نَجيح بن عبد الرحمن السِّنْدي. حجاج: هو ابن محمد المِصِّيصي.
درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ ابو معشر (نجیح بن عبد الرحمن سندی) ضعیف راوی ہیں۔
فنی نکتہ / علّت: حجاج سے مراد حجاج بن محمد مصیصی ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 19/ 141، وفي "تاريخه" 1/ 487، وأبو إسحاق الثعلبي في "تفسيره" 7/ 196 من طريق الحسين بن داود سُنَيد، عن حجاج بن محمد، به.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبری نے اپنی "تفسیر" 19/ 141 اور "تاریخ" 1/ 487 میں، اور ابو اسحاق ثعلبی نے اپنی "تفسیر" 7/ 196 میں حسین بن داؤد سنید کے طریق سے حجاج بن محمد کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
والصريحة: الحُرّة، والسُّرِّية: الأمَة، كما توضحه رواية وهب بن مُنبِّه في "المبتدأ" كما في "فتح الباري" للحافظ ابن حجر 10/ 194، حيث قال: كان لسليمان ألفُ امرأة، ثلاث مئة مَهِيرة، وسبع مئة سُرِّيّة.
نوٹ / توضیح: "صریحہ" سے مراد آزاد عورت (بیوی) ہے اور "سریہ" سے مراد لونڈی ہے، جیسا کہ وہب بن منبہ کی "المبتدأ" والی روایت سے واضح ہوتا ہے (دیکھیے فتح الباری از حافظ ابن حجر 10/ 194) جہاں وہ کہتے ہیں کہ سلیمان علیہ السلام کی ایک ہزار عورتیں تھیں؛ تین سو مہر والی (آزاد بیویاں) اور سات سو لونڈیاں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4186 سے ماخوذ ہے۔