حدیث نمبر: 4187
حدثنا محمد بن إبراهيم بن الفضل، حدثنا الحسين بن محمد القَبّاني، حدثنا سَلْم بن جُنَادة القرشي، حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن المِنهال بن عمرو، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس قال: كان سليمانُ بن داود يُوضَع له ستُّ مئة كرسي، ثم يَجيءُ أشرافُ الإنس فيَجلِسُون مما يَلِيه، ثم يَجيءُ أشرافُ الجنِّ فيَجلِسُون مما يلي أشرافَ الإنس، ثم يدعو الطيرَ فتُظِلُّهم، ثم يدعو الرِّيحَ فتَحمِلُهم، قال: فيسيرُ في الغَدَاةِ الواحدةِ مسيرةَ شهرٍ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4142 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا: سلیمان بن داود علیہما السلام کے لیے چھ سو کرسیاں رکھی جاتی تھیں، پھر انسانوں کے معززین آتے اور ان کے قریب بیٹھ جاتے، پھر جنوں کے معززین آتے اور انسانوں کے معززین کے قریب بیٹھ جاتے، پھر آپ پرندوں کو بلاتے تو وہ ان پر سایہ کر لیتے، پھر آپ ہوا کو بلاتے تو وہ انہیں اٹھا لیتی۔ انہوں نے مزید کہا: ”پس آپ ایک صبح میں ایک مہینے کی مسافت طے کر لیتے تھے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4187
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،وقد انفرد سَلْم بن جُنادة بقوله في هذه الرواية: ست مئة كرسي، وخالفه كل أصحاب أبي معاوية» [ترقيم الرساله 4187] [ترقيم الشركة 4164] [ترقيم العلميه 4142]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. وقد انفرد سَلْم بن جُنادة بقوله في هذه الرواية: ست مئة كرسي، وخالفه كل أصحاب أبي معاوية - وهو محمد بن خازم الضَّرير - فقالوا: ست مئة ألف كرسي.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ / علّت: اس روایت میں سلم بن جنادہ "چھ سو کرسیوں" کا لفظ ذکر کرنے میں منفرد ہیں، جبکہ ابو معاویہ (محمد بن خازم ضریر) کے تمام دیگر شاگردوں نے ان کی مخالفت کی ہے اور "چھ لاکھ کرسیاں" بیان کی ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 19/ 144، وفي "تاريخه" 1/ 488 عن أبي السائب سَلْم بن جُنادة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام طبری نے اپنی "تفسیر" 19/ 144 اور "تاریخ" 1/ 488 میں ابو السائب سلم بن جنادہ کے واسطے سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقد تقدم برقم (3568) من طريق إسحاق بن راهويه عن أبي معاوية.
تفصیلِ روایت: یہ روایت پہلے نمبر (3568) پر اسحاق بن راہویہ کے طریق سے ابو معاویہ کے واسطے سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4187 سے ماخوذ ہے۔