حدیث نمبر: 4163
أخبرنا الحسن بن محمد الإسفراييني، حدثنا محمد بن أحمد بن البَرَاء، حدثنا عبد المُنعِم بن إدريس، عن أبيه، عن وهب بن مُنبِّه، قال: كان عُمرُ أيوبَ ثلاثًا وتسعين سنةً، وأوصى عند موته إلى ابنِه حَومَل، وقد بعثَ اللهُ بعدَه ابنَه بِشرَ بن أيوب نبيًّا، وسمّاه ذا الكِفْل، وأمرَه بالدُّعاء إلى تَوحِيده، وإنه كان مُقيمًا بالشام عُمرَه حتى ماتَ، وكان عُمرُه خمسًا وسبعين سنةً، وإنَّ بِشْرًا أوصى إلى ابنِه عَبْدان، ثم بَعَثَ اللهُ بعدَهم شعيبًا (2). ذكر نبيِّ الله إلياس وصفتِه ﵇
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4118 - في إسناده عبد المنعم بن إدريس وقد كذب
حافظ طلحہ بابر

وہب بن منبہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”ایوب علیہ السلام کی عمر ترانوے (93) سال تھی، اور انہوں نے اپنی وفات کے وقت اپنے بیٹے حومل کو وصیت کی۔ پھر ان کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کے بیٹے بشر بن ایوب کو نبی بنا کر بھیجا اور ان کا نام ذوالکفل رکھا، اور انہیں اپنی توحید کی طرف بلانے کا حکم دیا۔ وہ اپنی پوری زندگی شام میں ہی مقیم رہے یہاں تک کہ وفات پا گئے، اور ان کی عمر پچہتر (75) سال تھی۔ پھر بشر نے اپنے بیٹے عبدان کو وصیت کی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے شعیب علیہ السلام کو مبعوث فرمایا۔“ اللہ کے نبی حضرت الیاس علیہ السلام اور ان کے اوصاف کا تذکرہ۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4163
درجۂ حدیث محدثین: إسناده واهٍ
تخریج حدیث «إسناده واهٍ، من أجل عبد المنعم، فقد كذَّبه الإمام أحمد.» [ترقيم الرساله 4163] [ترقيم الشركة 4140] [ترقيم العلميه 4118]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده واهٍ، من أجل عبد المنعم، فقد كذَّبه الإمام أحمد.
درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (انتہائی کمزور) ہے، عبد المنعم کی وجہ سے، کیونکہ امام احمد نے اس کی تکذیب کی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4163 سے ماخوذ ہے۔