المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
رَفْعُ نَعْشِ هَارُونَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ نُزُولُهُ بِدُعَاءِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - باب: حضرت ہارون علیہ السلام کے جنازے کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اس کا واپس آنا
حدثنا علي بن حَمْشاذ، حدثنا محمد بن شاذان الجَوْهَري، حدثنا سعيد بن سليمان، حدثنا عَبَّاد بن العَوّام، عن سفيان بن حُسين، عن الحَكَم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عبّاس، عن عليٍّ في قوله ﷿: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا﴾ [الأحزاب: 61]، قال: صَعِد موسى وهارون الجبلَ، فمات هارونُ، فقالت بنو إسرائيل لموسى: أنت قَتلْتَه، كان أشدَّ حُبًّا لنا منك وألْيَنَ لنا منك، فآذَوه في ذلك، فأمر الله الملائكةَ فحمَلَتْه فَمَرُّوا به على مَجالس بني إسرائيل، حتى عَلِمُوا بموته، فدفنُوه، ولم يَعرِفْ قَبرُه إلَّا الرَّخَمُ، وإنَّ الله جعلَه أصَمَّ أبْكَمَ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. ذكر وفاة موسى بن عِمران صلوات الله عليه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4110 - صحيحسیدنا علی رضی اللہ عنہ سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا﴾ [سورة الأحزاب: 69] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: موسیٰ اور ہارون علیہما السلام پہاڑ پر چڑھے، تو وہاں ہارون علیہ السلام کی وفات ہو گئی۔ بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام سے کہا: ”آپ نے انہیں قتل کیا ہے، وہ ہم سے آپ کی نسبت زیادہ محبت کرتے تھے اور ہمارے حق میں آپ سے زیادہ نرم خو تھے۔“ پس انہوں نے اس بارے میں موسیٰ علیہ السلام کو اذیت دی۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا، انہوں نے ہارون علیہ السلام کی میت کو اٹھایا اور بنی اسرائیل کی مجلسوں کے پاس سے گزرے، یہاں تک کہ انہیں ان کی طبعی موت کا علم ہو گیا۔ پھر فرشتوں نے انہیں دفن کر دیا، اور ان کی قبر کا پتہ گدھ (پرندے) کے سوا کسی کو نہ تھا، اور بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اسے بہرا اور گونگا بنا دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ حضرت موسیٰ بن عمران صلوات اللہ علیہ کی وفات کا تذکرہ۔