المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
رَفْعُ نَعْشِ هَارُونَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ نُزُولُهُ بِدُعَاءِ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - باب: حضرت ہارون علیہ السلام کے جنازے کا آسمان کی طرف اٹھایا جانا، پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے اس کا واپس آنا
حدثنا محمد بن إسحاق الصَّفّار العَدْل، حدثنا أحمد بن نَصْر، حدثنا عمرو بن طلحة القَنّاد، حدثنا أسباط بن نَصْر، عن السُّدِّي، في خبر ذَكَره عن أبي مالك، عن ابن عبّاس، وعن مُرَّة الهَمْداني، عن عبد الله بن مسعود، وعن ناسٍ من أصحاب النبي ﷺ: أن الله أوحَى إلى موسى بن عِمران أني مُتَوفٍّ هارون فائتِ به جَبَلَ كذا وكذا، فانطلَقَ موسى وهارون نحو ذلك الجبل، فإذا هم فيه بشجرةٍ لم يُرَ شجرةٌ مثلُها، وإذا هم ببيتٍ مَبنيٍّ، وإذا هم فيه بسَريرٍ عليه فَرْشٌ، وإذا فيه رِيحٌ طَيِّبٌ، فلما نظر هارون إلى ذلك الجبل والبيتِ وما فيه أعجَبَه، قال: يا موسى، إنِّي لأحِبُّ أن أنامَ على هذا السَّرير، قال له موسى: فنَمْ عليه، قال: إني أخافُ أن يأتيَ ربُّ هذا البيتِ فيغضبَ علَيَّ، قال له موسى: لا تَرْهَب، أنا أكفيكَ ربَّ هذا البيت فنَمْ، فقال: يا موسى، بل نَمْ معي، فإن جاء ربُّ هذا البيت غَضِبَ علَيَّ وعليك جميعًا، فلما ناما أَخَذَ هارونَ الموتُ، فلما وَجَدَ حِسَّه، قال: يا موسى، خَدَعْتَني، فلما قُبِضَ رُفِع ذلك البيتُ، وذهبتْ تلك الشَجرةُ، ورُفِعَ السريرُ إلى السماء، فلما رَجَعَ موسى إلى بني إسرائيل وليس معه هارون، قالوا: إنَّ موسى قتل هارون وحَسَده حُبَّ بني إسرائيل له، وكان هارون أكفَّ عنهم وألْينَ لهم من موسى، كان في موسى بعضُ الغِلَظِ عليهم، فلما بلغه ذلك قال لهم: وَيحَكُم إنه كان أخي، أفترَوني أقتُلُه؟ فلما أكثَروا عليه قام فصلَّى ركعتَين، ثم دعا الله فنزَل بالسريرِ، حتى نَظَروا إليه بين السماء والأرض، فصدَّقُوه (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4109 - على شرط البخاري ومسلمسدی رحمہ اللہ نے ایک روایت میں ابو مالک کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، مرہ ہمدانی کے واسطے سے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، اور نبی کریم ﷺ کے کئی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے روایت کیا ہے: اللہ تعالیٰ نے موسیٰ بن عمران علیہ السلام کی طرف وحی فرمائی کہ میں ہارون کو وفات دینے والا ہوں، لہٰذا آپ انہیں فلاں فلاں پہاڑ پر لے جائیں۔ پس موسیٰ اور ہارون علیہما السلام اس پہاڑ کی طرف چل پڑے۔ وہاں انہوں نے ایک ایسا درخت دیکھا جس کی مثل کوئی درخت نہیں دیکھا گیا تھا، اور انہیں وہاں ایک تعمیر شدہ گھر ملا، جس میں ایک تخت بچھا ہوا تھا جس پر بستر تھا، اور اس میں پاکیزہ خوشبو مہک رہی تھی۔ جب ہارون علیہ السلام نے اس پہاڑ، گھر اور اس کے اندر موجود چیزوں کو دیکھا تو وہ انہیں بہت پسند آیا۔ انہوں نے کہا: ”اے موسیٰ! میں چاہتا ہوں کہ اس تخت پر سو جاؤں۔“ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ”تو اس پر سو جائیے۔“ ہارون علیہ السلام نے کہا: ”مجھے ڈر ہے کہ اس گھر کا مالک آ جائے گا اور مجھ پر ناراض ہوگا۔“ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: ”مت ڈریں، میں آپ کی طرف سے اس گھر کے مالک کو سنبھال لوں گا، آپ سو جائیے۔“ تو ہارون علیہ السلام نے کہا: ”اے موسیٰ! بلکہ آپ بھی میرے ساتھ سو جائیں، تاکہ اگر اس گھر کا مالک آئے تو ہم دونوں پر اکٹھا ناراض ہو۔“ پس جب وہ دونوں سو گئے تو ہارون علیہ السلام پر موت کی کیفیت طاری ہو گئی۔ جب انہوں نے اس کی سختی محسوس کی تو کہا: ”اے موسیٰ! آپ نے مجھے دھوکہ دیا۔“ پھر جب ان کی روح قبض کر لی گئی تو وہ گھر اٹھا لیا گیا، وہ درخت غائب ہو گیا، اور وہ تخت آسمان کی طرف اٹھا لیا گیا۔ جب موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کے پاس واپس لوٹے اور ہارون علیہ السلام ان کے ساتھ نہیں تھے، تو بنی اسرائیل نے کہا: ”موسیٰ نے ہارون کو قتل کر دیا ہے کیونکہ وہ بنی اسرائیل کی ان سے محبت پر حسد کرتے تھے۔“ دراصل ہارون علیہ السلام ان (بنی اسرائیل) کے حق میں موسیٰ علیہ السلام سے زیادہ نرم خو اور ان پر سختی کرنے سے زیادہ گریز کرنے والے تھے، جبکہ موسیٰ علیہ السلام میں ان کے لیے کچھ سختی تھی۔ جب موسیٰ علیہ السلام کو یہ بات پہنچی تو انہوں نے فرمایا: ”تمہاری خرابی ہو! وہ میرا بھائی تھا، کیا تم سمجھتے ہو کہ میں اسے قتل کر دوں گا؟“ پھر جب انہوں نے ان پر الزام تراشی زیادہ کر دی تو موسیٰ علیہ السلام نے کھڑے ہو کر دو رکعت نماز ادا کی، پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی، تو وہ تخت نیچے اترا یہاں تک کہ انہوں نے اسے آسمان اور زمین کے درمیان دیکھا، تو انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کی تصدیق کی۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن ہے، اسباط بن نصر اور سدی کی وجہ سے۔ (راویوں کا تعارف): سدی کا نام اسماعیل بن عبد الرحمن بن ابی کریمہ ہے، ابو مالک سے مراد غزوان الغفاری ہیں، اور مرہ الہمذانی سے مراد ابن شراحیل ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تاريخه" 1/ 432 عن موسى بن هارون، عن عمرو بن حماد بن طلحة القَنّاد بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے "تاریخ" 1/ 432 میں موسیٰ بن ہارون سے، انہوں نے عمرو بن حماد بن طلحہ القناد سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔