المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
سُؤَالُ مُوسَى رُؤْيَةَ الرَّبِّ وَصَعْقُهُ عِنْدَ التَّجَلِّي باب: حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رب کو دیکھنے کا سوال اور تجلی کے وقت بے ہوش ہو جانا
حدیث نمبر: 4148
فحدَّثَناه الحسن بن يعقوب وإبراهيم بن عِصْمةَ، قالا: حدثنا السَّرِيُّ بن خُزَيمة، حدثنا موسى بن إسماعيل، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس، عن النبي ﷺ إن شاء الله - شكَّ أبو سلمة موسى بن إسماعيل - ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ [الأعراف: 143]، قال: "ساخَ الجبَلُ" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا (ابوسلمہ موسیٰ بن اسماعیل نے مرفوع ہونے میں شک کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ان شاء اللہ یہ نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے): ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا﴾ ”پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی تو اسے ریزہ ریزہ کر دیا۔“ [سورة الأعراف: 143] آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پہاڑ زمین میں دھنس گیا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح كسابقه. وقد تقدم برقم (66) و (67) من طريقين عن أبي سلمة موسى بن إسماعيل من غير شك، فالظاهر أنَّ الشكَّ هنا ممّن دون موسى بن إسماعيل، والله أعلم.
درجۂ حدیث: اس کی سند سابقہ حدیث کی طرح صحیح ہے۔
تفصیلِ روایت: یہ نمبر (66) اور (67) پر ابو سلمہ موسیٰ بن اسماعیل سے بغیر کسی شک کے دو طریقوں سے گزر چکی ہے، لہٰذا ظاہر یہی ہے کہ یہاں شک موسیٰ بن اسماعیل سے نچلے راوی کی طرف سے ہے، واللہ اعلم۔
درجۂ حدیث: اس کی سند سابقہ حدیث کی طرح صحیح ہے۔
تفصیلِ روایت: یہ نمبر (66) اور (67) پر ابو سلمہ موسیٰ بن اسماعیل سے بغیر کسی شک کے دو طریقوں سے گزر چکی ہے، لہٰذا ظاہر یہی ہے کہ یہاں شک موسیٰ بن اسماعیل سے نچلے راوی کی طرف سے ہے، واللہ اعلم۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4148 سے ماخوذ ہے۔