المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
سُؤَالُ مُوسَى رُؤْيَةَ الرَّبِّ وَصَعْقُهُ عِنْدَ التَّجَلِّي باب: حضرت موسیٰ علیہ السلام کا رب کو دیکھنے کا سوال اور تجلی کے وقت بے ہوش ہو جانا
حدیث نمبر: 4147
حدثنا إسماعيل بن علي الخُطَبي ببغداد، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا محمد بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا حمّاد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ تلا هذه الآية: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ﴾ [الأعراف: 143]- أشار حمادٌ ووضع إبهامَه على مَفصِل الخِنْصِر. قال: "فَساخَ الجبَلُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَلَمَّا تَجَلَّى رَبُّهُ لِلْجَبَلِ﴾ ”پس جب ان کے رب نے پہاڑ پر تجلی فرمائی۔“ [سورة الأعراف: 143] (یہ بیان کرتے ہوئے) راوی حماد نے اشارہ کیا اور اپنا انگوٹھا چھوٹی انگلی کے جوڑ پر رکھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو پہاڑ زمین میں دھنس گیا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. وقد تقدم بالأرقام (66) و (67) و (3288) من طرق عن حماد بن سلمة، وانظر تالييه.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
تفصیلِ روایت: یہ روایت حماد بن سلمہ کے طرق سے نمبر (66)، (67) اور (3288) کے تحت گزر چکی ہے۔ اگلی دو روایات ملاحظہ کریں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
تفصیلِ روایت: یہ روایت حماد بن سلمہ کے طرق سے نمبر (66)، (67) اور (3288) کے تحت گزر چکی ہے۔ اگلی دو روایات ملاحظہ کریں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4147 سے ماخوذ ہے۔