المستدرك على الصحيحين
كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين— سابقہ انبیاء و مرسلین کے واقعات
ذِكْرُ النَّبِيِّ الْكَلِيمِ مُوسَى بْنِ عِمْرَانَ وَأَخِيهِ هَارُونَ بْنِ عِمْرَانَ باب: حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون علیہما السلام کا ذکر — حضرت خضر کے ساتھ والے موسیٰ کے بارے میں اختلاف کا بیان
فحدَّثَنا أبو محمد عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب بِهَمَذَان، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس الحَنْظَلي، حدثنا عبد الله بن داهِر بن يحيى الرازي، حدثنا أبي، عن الأعمش، عن عَبَاية الأسدي، قال: سمعتُ عبد الله بن عبّاس يقول: إنَّ الله يقول في كتابه لموسى بن عِمران: ﴿إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾، قال: ﴿وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا﴾ [الأعراف: 144 - 145]، فكان موسى يَرى أنَّ جميع الأشياء قد أُثبتت له، كما ترون أنتم أن علماءكم قد أثبتُوا لكم كلَّ شيءٍ، وكما يُثبِتُوه، فلما انتهى موسى إلى ساحِلِ البحر لقي العالِمَ فاستَنْطَقه فأقرَّ له بفَضْل علمه ولم يَحسُده، فقال له موسى ورَغِبَ إليه: ﴿هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾ فعَلِمَ العالِمُ أنَّ موسى لا يُطيق صحبتَه، ولا يصبر على عِلْمِه، فقال له العالِمُ: إنك لا تَستطيعُ معي صَبْرًا، ﴿وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا﴾ [الكهف: 68]؟! فقال له موسى وهو يعتذر: ﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا﴾، فعَلِم أنَّ موسى لا يَصبِرُ على عِلْمِه، فقال له: ﴿فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا﴾ فرَكِبا في السفينة فخَرَقَها العالِمُ، وكان خَرْقُها لله رِضًا ولموسى سُخْطًا، ولَقِيَ الغلامَ فقتَلَه، وكان قتلُه لله رِضًا؛ ثم ذَكَر بعضَ القصةِ والكلام، ولم يُجاوِزِ ابنَ عبّاس (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4095 - عبد الله بن داهر الرازي وأبيه رافضيانعبایہ اسدی سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام کے لیے فرمایا: ﴿إِنِّي اصْطَفَيْتُكَ عَلَى النَّاسِ بِرِسَالَاتِي وَبِكَلَامِي فَخُذْ مَا آتَيْتُكَ وَكُنْ مِنَ الشَّاكِرِينَ﴾ ”(اللہ نے فرمایا: اے موسیٰ!) بے شک میں نے اپنی رسالتوں اور اپنے کلام کے ذریعے تمہیں لوگوں پر منتخب کر لیا ہے، پس جو کچھ میں نے تمہیں دیا ہے اسے پکڑ لو اور شکر گزاروں میں سے ہو جاؤ۔“ اور فرمایا: ﴿وَكَتَبْنَا لَهُ فِي الْأَلْوَاحِ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ مَوْعِظَةً وَتَفْصِيلًا﴾ ”اور ہم نے ان کے لیے تختیوں میں ہر چیز کی نصیحت اور تفصیل لکھ دی۔“ [سورة الأعراف: 144 - 145] پس موسیٰ علیہ السلام کا یہ خیال تھا کہ ان کے لیے تمام چیزیں ثابت (مقرر اور واضح) کر دی گئی ہیں، جیسا کہ تم لوگ سمجھتے ہو کہ تمہارے علماء نے تمہارے لیے ہر چیز واضح کر دی ہے، اور جس طرح وہ اسے ثابت کرتے ہیں۔ چنانچہ جب موسیٰ علیہ السلام سمندر کے کنارے پہنچے تو اس عالم (حضرت خضر علیہ السلام) سے ملے اور ان سے بات چیت کی، تو موسیٰ علیہ السلام نے ان کے علم کی فضیلت کا اقرار کیا اور ان سے حسد نہیں کیا، بلکہ موسیٰ علیہ السلام نے ان سے رغبت ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: ﴿هَلْ أَتَّبِعُكَ عَلَى أَنْ تُعَلِّمَنِ مِمَّا عُلِّمْتَ رُشْدًا﴾ ”کیا میں آپ کی پیروی کر سکتا ہوں اس شرط پر کہ جو بھلائی (اور علم) آپ کو سکھایا گیا ہے، اس میں سے کچھ آپ مجھے بھی سکھا دیں؟“ عالم جان گئے کہ موسیٰ ان کی صحبت کی طاقت نہیں رکھتے، اور ان کے علم پر صبر نہیں کر سکیں گے، تو عالم نے ان سے کہا: بے شک آپ میرے ساتھ ہرگز صبر نہیں کر سکیں گے۔ ﴿وَكَيْفَ تَصْبِرُ عَلَى مَا لَمْ تُحِطْ بِهِ خُبْرًا﴾ ”اور آپ اس بات پر کیسے صبر کر سکتے ہیں جس کی حقیقت کا آپ کو علم ہی نہیں ہے؟“ [سورة الكهف: 68] تو موسیٰ علیہ السلام نے عذر پیش کرتے ہوئے ان سے فرمایا: ﴿سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ صَابِرًا وَلَا أَعْصِي لَكَ أَمْرًا﴾ ”ان شاء اللہ، آپ مجھے صبر کرنے والا پائیں گے اور میں کسی معاملے میں آپ کی نافرمانی نہیں کروں گا۔“ عالم جان گئے کہ موسیٰ ان کے علم پر صبر نہیں کر سکیں گے، تو انہوں نے فرمایا: ﴿فَإِنِ اتَّبَعْتَنِي فَلَا تَسْأَلْنِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أُحْدِثَ لَكَ مِنْهُ ذِكْرًا﴾ ”پس اگر آپ میری پیروی کریں تو مجھ سے کسی چیز کے بارے میں سوال نہ کیجیے گا یہاں تک کہ میں خود اس کا ذکر آپ سے کروں۔“ پھر وہ دونوں کشتی میں سوار ہوئے تو عالم نے اسے پھاڑ دیا، ان کا کشتی کو پھاڑنا اللہ کی رضا کے لیے تھا جبکہ موسیٰ علیہ السلام کے لیے یہ ناراضگی کا باعث تھا۔ پھر وہ ایک لڑکے سے ملے تو انہوں نے اسے قتل کر دیا، ان کا اسے قتل کرنا اللہ کی رضا کے لیے تھا۔ پھر راوی نے کچھ قصہ اور کلام ذکر کیا، اور (یہ روایت) ابن عباس رضی اللہ عنہما سے آگے نہیں بڑھی (یعنی موقوف ہے)۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند واہی (انتہائی کمزور) ہے۔
فنی نکتہ / علّت: یہ ضعف عبد اللہ بن داہر اور اس کے والد کی وجہ سے ہے، یہ دونوں "لیس بشیء" (کچھ حیثیت نہیں رکھتے) ہیں۔ ان کا تذکرہ "المیزان" اور "اللسان" میں موجود ہے۔ اور امام ذہبی نے "التلخیص" میں مصنف (حاکم) کے اس خبر کو صحیح قرار دینے پر تعاقب (گرفت) کیا ہے۔