حدیث نمبر: 4119
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا عبد الله بن وهب، حدثني جرير بن حازم، أنه سمع قتادة يقول: بعث الله شعيب النبي ﷺ إلى أمتين: إلى قومه أهل مَدْيَنَ، وإلى أصحاب الأيكة، وكانت الأيكة من شجر مُلْتَفٍّ، فلما أراد الله أن يُعذِّبَهم بعث الله عليهم حرًّا شديدًا، ورفع لهم العذاب كأنه سحابةٌ، فلما دنَتْ منهم خرجوا إليها رَجاءَ بَرْدِها، فلما كانوا تحتها مَطَرَت عليهم نارًا، قال: فذلك قوله ﷿: ﴿فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ﴾ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 4075 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر

قتادہ رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے شعیب نبی ﷺ کو دو امتوں کی طرف مبعوث فرمایا: ان کی اپنی قوم اہلِ مدین کی طرف، اور اصحاب الایکہ کی طرف۔ الایکہ گھنے اور الجھے ہوئے درختوں کو کہتے ہیں۔ پس جب اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب نازل کرنے کا ارادہ فرمایا تو ان پر شدید گرمی مسلط کر دی، اور ان کے لیے عذاب کو بادل کی شکل میں بلند کیا۔ جب وہ بادل ان کے قریب ہوا تو وہ ٹھنڈک کی امید میں اس کی طرف نکل آئے۔ جب وہ سب اس کے نیچے جمع ہو گئے تو اس نے ان پر آگ برسائی۔“ قتادہ نے فرمایا: یہی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ﴿فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ الظُّلَّةِ﴾ ”پس انہیں سائبان والے دن کے عذاب نے آ پکڑا۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : تواريخ المتقدمين من الأنبياء والمرسلين / حدیث: 4119
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رجاله ثقات. وهو عند ابن وهب في التفسير من "جامعه" 2/ (164).» [ترقيم الرساله 4119] [ترقيم الشركة 4097] [ترقيم العلميه 4075]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) رجاله ثقات. وهو عند ابن وهب في التفسير من "جامعه" 2/ (164).
درجۂ راوی: اس کے رجال ثقہ ہیں۔ یہ ابن وہب کی "جامع" (تفسیر) 2/ (164) میں موجود ہے۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 19/ 110، وفي "تاريخه" 1/ 327 عن يونس بن عبد الأعلى، عن عبد الله بن وهب، به.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے یونس بن عبدالاعلیٰ سے، انہوں نے عبداللہ بن وہب سے، اسی طرح روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4119 سے ماخوذ ہے۔