حدیث نمبر: 4030
وأخبرني محمد بن المؤمَّل، حدَّثنا الفضل، حدَّثنا أحمد بن حَنبَل، حدَّثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن ابن خُثَيم، عن أبي الطُّفَيل قال: كنت عند ابن عبَّاس يومًا، فجاءه بنو أبي لهبٍ يختصمون في شيءٍ لهم، فقام يُصلِحُ بينهم، فدَفَعه بعضُهم فوَقَع على الفِراش، فغَضِبَ ابن عبَّاس وقال: أخرِجوا عني الكَسْب الخبيثَ - يعني: ولدَه - ﴿مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾ (2). ﷽ [
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3986 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

ابو طفیل رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں ایک دن سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھا کہ ابولہب کے بیٹے ان کے پاس اپنے کسی معاملے میں جھگڑتے ہوئے آئے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان کے درمیان صلح کروانے کے لیے کھڑے ہوئے، تو ان میں سے کسی نے انہیں دھکا دے دیا اور وہ بستر پر گر پڑے۔ اس پر سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما غصے میں آ گئے اور فرمایا: ”اس خبیث کمائی کو میرے پاس سے نکال دو۔“ ان کی مراد اس (ابولہب) کی اولاد تھی، (جیسا کہ فرمانِ الٰہی ہے) ﴿مَا أَغْنَى عَنْهُ مَالُهُ وَمَا كَسَبَ﴾ ”اس کا مال اور جو کچھ اس نے کمایا (یعنی اولاد) اس کے کچھ کام نہ آیا۔“ [سورة المسد: 2]

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 4030
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل ابن خثيم: وهو عبد الله بن عثمان بن خثيم. أبو الطفيل: هو عامر بن واثلة.» [ترقيم الرساله 4030] [ترقيم الشركة 4008] [ترقيم العلميه 3986]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده قوي من أجل ابن خثيم: وهو عبد الله بن عثمان بن خثيم. أبو الطفيل: هو عامر بن واثلة.
درجۂ حدیث: اس کی سند ابن خثیم (عبد اللہ بن عثمان بن خثیم) کی وجہ سے "قوی" ہے۔ ابو الطفیل سے مراد "عامر بن واثلہ" ہیں۔
وهو في "تفسير عبد الرزاق" 2/ 406، ومن طريق عبد الرزاق أخرجه الطبري في "تفسيره" 30/ 337 - 338، وكذا الثعلبي 10/ 325 - 326.
حوالہ / مصدر: یہ "تفسیر عبد الرزاق" (2/406) میں ہے، اور عبد الرزاق کے طریق سے اسے طبری نے تفسیر (30/337-338) اور ثعلبی (10/325-326) نے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4030 سے ماخوذ ہے۔