حدیث نمبر: 4004
أخبرنا أبو زكريا العَنبرَي، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، حدَّثنا إسحاق، أخبرنا أبو عامر العَقَدي، حدَّثنا عِكْرمة بن عمار اليَمَامي، عن أبي زُمَيل سِمَاك الحنفي قال: حدثني مالك بن مَرثَد، عن أبيه قال: قلتُ لأبي ذرٍّ: هل سمعتَ رسولَ الله ﷺ يذكرُ ليلةَ القَدْر؟ فقال: نعم، قلتُ: يا رسول الله، أخبِرْني عن ليلة القَدْر، أفي رمضان أم في غير رمضان؟ قال: "بل في رمضانَ" قلت: أخبرني يا رسول الله، أهي مع الأنبياء ما كانوا، فإذا قُبِضَ الأنبياءُ رُفِعَت، أم هي إلى يوم القيامة؟ قال: "لا، بل إلى يوم القيامة" قلت: يا رسول الله، أخبِرني في أيِّ رمضانَ هي؟ قال: "في العَشْر الأواخر، لا تَسأَلْني عن شيءٍ بعدَها" فقلت: أقسمتُ عليك بحقِّي عليك يا رسول الله في أيِّ عَشرٍ هي؟ قال: فغضبَ عليَّ غضبًا شديدًا ما غضبَ عليَّ قبلُ ولا بعدُ مثلَه، وقال: "لو شاء الله لأطلَعَكم عليها (1)، التمِسوها في السَّبع الأواخر، لا تَسألْني عن شيءٍ بعدَها" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3960 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

مالک بن مرثد رحمہ اللہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: میں نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا آپ نے رسول اللہ ﷺ کو شبِ قدر کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: ”ہاں!“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے شبِ قدر کے بارے میں بتائیے، کیا یہ رمضان میں ہوتی ہے یا غیر رمضان میں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”بلکہ یہ رمضان میں ہوتی ہے۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے، کیا یہ انبیاء کے ساتھ ہوتی تھی اور جب انبیاء وفات پا گئے تو اسے اٹھا لیا گیا، یا یہ قیامت تک باقی رہے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ یہ قیامت تک باقی رہے گی۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مجھے بتائیے کہ یہ رمضان کے کون سے حصے میں ہوتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”آخری عشرے میں، اس کے بعد مجھ سے کچھ نہ پوچھنا۔“ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا آپ پر جو حق ہے، میں اس کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ یہ (آخری) عشرے کے کس حصے میں ہوتی ہے؟ راوی کہتے ہیں: اس پر آپ ﷺ مجھ پر اتنے سخت ناراض ہوئے کہ اس سے پہلے اور اس کے بعد مجھ پر کبھی اتنے ناراض نہیں ہوئے تھے، اور آپ ﷺ نے فرمایا: ”اگر اللہ چاہتا تو تمہیں اس پر مطلع فرما دیتا، اسے آخری سات راتوں میں تلاش کرو، اس کے بعد مجھ سے کچھ نہ پوچھنا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 4004
درجۂ حدیث محدثین: إسناده محتمل للتحسين من أجل مرثد والد مالك
تخریج حدیث «إسناده محتمل للتحسين من أجل مرثد والد مالك، وقد سلف الكلام عليه برقم (1613) حيث روى المصنف هذا الحديث من طريقين آخرين عن عكرمة بن عمار. إسحاق: هو ابن راهويه، وأبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو القيسي.» [ترقيم الرساله 4004] [ترقيم الشركة 3982] [ترقيم العلميه 3960]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) في النسخ الخطية: عليه، والمثبت من المطبوع.
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں "علیہ" ہے، جبکہ جو ثابت کیا گیا ہے وہ مطبوعہ نسخے سے ہے۔
(2) إسناده محتمل للتحسين من أجل مرثد والد مالك، وقد سلف الكلام عليه برقم (1613) حيث روى المصنف هذا الحديث من طريقين آخرين عن عكرمة بن عمار. إسحاق: هو ابن راهويه، وأبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو القيسي.
درجۂ حدیث: اس کی سند مرثد (مالک کے والد) کی وجہ سے "تحسین کا احتمال" رکھتی ہے۔ اس پر کلام نمبر (1613) پر گزر چکا ہے جہاں مصنف نے یہ حدیث عکرمہ بن عمار کے دو دیگر طرق سے روایت کی ہے۔ اسحاق سے مراد "ابن راہویہ" اور ابو عامر عقدی سے مراد "عبد الملک بن عمرو قیسی" ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4004 سے ماخوذ ہے۔