المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ ( إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ ) باب: تفسیر سورہ انا انزلناہ (سورہ القدر)
حدیث نمبر: 4003
حدَّثنا علي بن حَمشاذَ العَدْل، حدَّثنا محمد بن عيسى الواسطي، حدَّثنا عَمْرو بن عَوْن، حدَّثنا هُشَيم، عن حُصَين، عن حَكِيم بن جُبير، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبّاس قال: نُزِّل القرآنُ في ليلة القَدْر من السماء العُلْيا إلى السماء الدنيا جُملةً واحدةً، ثم فُرِّق في السِّنين، قال: وتلا هذه الآية: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (75) وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ﴾ [الفرقان: 75 - 76] (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3959 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قرآن مجید شبِ قدر میں بلند آسمان سے آسمانِ دنیا کی طرف ایک ہی مرتبہ نازل کیا گیا، پھر اسے (مختلف) سالوں میں تھوڑا تھوڑا کر کے اتارا گیا۔“ اور انہوں نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ (75) وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ﴾ [سورة الواقعة: 75-76]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(4) إسناده صحيح.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وقد سلف برقم (3823) من طريق الفضل بن محمد الشعراني عن عمرو بن عون الواسطي.
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (3823) پر فضل بن محمد شعرانی عن عمرو بن عون واسطی کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اس سے پہلی (روایت) دیکھیں۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وقد سلف برقم (3823) من طريق الفضل بن محمد الشعراني عن عمرو بن عون الواسطي.
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (3823) پر فضل بن محمد شعرانی عن عمرو بن عون واسطی کے طریق سے گزر چکی ہے۔
وانظر ما قبله.
حوالہ / مصدر: اس سے پہلی (روایت) دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4003 سے ماخوذ ہے۔