حدیث نمبر: 4002
أخبرنا أبو زكريا العَنبَري، حدَّثنا محمد بن عبد السلام، حدَّثنا إسحاق بن إبراهيم، أخبرنا جَرِير، عن منصور، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عبَّاس في قوله ﷿: ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ قال: أنزل القرآنُ في ليلة القَدْر جُمْلةً واحدةً إلى سماءِ الدنيا وكان بمَوقِع النجوم، فكان الله ينزِّله على رسوله ﷺ بعضَه في إثر بعض، قال (1) وقالوا: ﴿لَوْلَا نُزِّلَ (2) عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا﴾ [الفرقان: 32] (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3958 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ﴿إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ﴾ [سورة القدر: 1] کے متعلق روایت ہے، انہوں نے فرمایا: ”قرآن مجید شبِ قدر میں ایک ہی مرتبہ (لوح محفوظ سے) آسمانِ دنیا کی طرف اتارا گیا، اور یہ تاروں کے گرنے کی جگہ (موقع النجوم) میں رکھا گیا، پھر اللہ تعالیٰ اسے اپنے رسول ﷺ پر تھوڑا تھوڑا کر کے نازل فرماتا رہا۔“ اور انہوں نے یہ بھی پڑھا: ”اور کافروں نے کہا: ﴿لَوْلَا نُزِّلَ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ جُمْلَةً وَاحِدَةً كَذَلِكَ لِنُثَبِّتَ بِهِ فُؤَادَكَ وَرَتَّلْنَاهُ تَرْتِيلًا﴾ ”اس پر سارا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ نازل کر دیا گیا؟ (اے نبی!) ہم نے ایسا اس لیے کیا ہے تاکہ اس کے ذریعے سے آپ کا دل مضبوط رکھیں اور ہم نے اسے ٹھہر ٹھہر کر پڑھا ہے۔“ [سورة الفرقان: 32]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 4002
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه.» [ترقيم الرساله 4002] [ترقيم الشركة 3980] [ترقيم العلميه 3958]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) أُقحم هنا عبارة في النسخ الخطية "﷿".
نوٹ / توضیح: یہاں قلمی نسخوں میں عبارت "عز وجل" کا زبردستی اضافہ کیا گیا ہے۔
(2) في نسخنا الخطية: (أُنزل)، والتلاوة بإجماع القَرأة: (نُزِّل).
نوٹ / توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں "أُنزل" ہے، جبکہ قراء کے اجماع کے ساتھ تلاوت "نُزِّل" ہے۔
(3) إسناده صحيح. إسحاق بن إبراهيم: هو ابن راهويه.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اسحاق بن ابراہیم سے مراد "ابن راہویہ" ہیں۔
وقد سلف برقم (2914) من طريق أبي بكر وعثمان ابني أبي شيبة عن جرير.
حوالہ / مصدر: یہ پہلے نمبر (2914) پر ابو بکر اور عثمان (ابن ابی شیبہ کے بیٹوں) عن جریر کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 4002 سے ماخوذ ہے۔