حدیث نمبر: 3968
وحدثنا أبو الوليد، حدَّثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدَّثنا يعقوب بن إبراهيم، حدَّثنا هُشَيم، أخبرنا يعلى بن عطاء، عن القاسم بن ربيعة قال: كان سعدُ بن أبي وقَّاص إذا قرأ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ قال: ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى﴾ [الأعلى: 6]، قال: يتذكر القرآن مخافةَ أن يَنسَى. قال وسمعتُ سعدًا يقرأُ: (ما نَنسَخ من آيةٍ أو تَنسَها) [البقرة: 106]، قلت: فإنَّ سعيد بن المسيب يقرأ: ﴿أَوْ نُنْسِهَا (2)﴾، فقال سعد: إنَّ القرآن لم يُنزَّلُ على المسيّب ولا آل المسيب، قال الله ﷿: ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى﴾ [الأعلى: 6]، وقال: ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ [الكهف: 24] (3).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. [88 - تفسير سورة الغاشية] ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3924 - على شرط البخاري ومسلم
حافظ طلحہ بابر

قاسم بن ربیعہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جب ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ پڑھتے ہوئے آیت ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى﴾ [سورة الأعلى: 6] پر پہنچتے، تو وہ بھول جانے کے خوف سے قرآن کو دہرا کر یاد کرتے تھے۔ راوی کہتے ہیں: میں نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو آیت ﴿ما نَنسَخ من آيةٍ أو تَنسَها﴾ [سورة البقرة: 106] پڑھتے سنا تو میں نے عرض کی: سعید بن مسیب تو اسے ﴿أَوْ نُنْسِهَا﴾ پڑھتے ہیں، سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بیشک قرآن مسیب یا آلِ مسیب پر نازل نہیں ہوا، اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿سَنُقْرِئُكَ فَلَا تَنْسَى﴾ [سورة الأعلى: 6] اور فرمایا: ﴿وَاذْكُرْ رَبَّكَ إِذَا نَسِيتَ﴾ [سورة الكهف: 24] ”اور جب آپ بھول جائیں تو اپنے رب کو یاد کریں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب التفسير / حدیث: 3968
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن إن شاء الله من أجل القاسم بن ربيعة. وقد سلف برقم (2989) من طريق شعبة عن يعلى بن عطاء.» [ترقيم الرساله 3968] [ترقيم الشركة 3946] [ترقيم العلميه 3924]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) في النسخ الخطية بزيادة ألف بعد السين، ولا نُراه إلا خطأً، وقد سلف ضبط قراءة سعيد عند الرواية السالفة برقم (2989).
نوٹ / توضیح: قلمی نسخوں میں سین کے بعد الف کے اضافے کے ساتھ ہے، ہمارے خیال میں یہ غلطی ہے۔ سعید کی قرأت کا ضبط گزشتہ روایت نمبر (2989) میں گزر چکا ہے۔
(3) إسناده حسن إن شاء الله من أجل القاسم بن ربيعة. وقد سلف برقم (2989) من طريق شعبة عن يعلى بن عطاء.
درجۂ حدیث: ان شاء اللہ اس کی سند القاسم بن ربیعہ کی وجہ سے "حسن" ہے۔ یہ پہلے نمبر (2989) پر شعبہ عن یعلیٰ بن عطاء کے طریق سے گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3968 سے ماخوذ ہے۔