المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ { سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى } - ذِكْرُ السُّوَرِ الَّتِي تُقْرَأُ فِي صَلَاةِ الْوِتْرِ باب: تفسیر سورۂ سبح اسم ربك الأعلى — وتر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 3967
حدَّثنا أبو الوليد الفقيه، حدَّثنا الهيثم بن خَلَفَ، حدَّثنا يعقوب بن إبراهيم وسُرَيج بن يونس، قالا: حدَّثنا هُشَيم، أخبرنا أبو بِشْر، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عمر: أنه كان إذا قرأ ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، قال: (سبحان ربِّيَ الأعلى الذي خَلَقَ فسَوَّى) قال: وهو قراءةُ أُبيِّ بن كعب (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3923 - على شرط البخاري ومسلمحافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ وہ جب ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ پڑھتے تو (آیت مکمل ہونے پر) کہتے: «سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى الَّذِي خَلَقَ فَسَوَّى» ”پاک ہے میرا وہ رب جو سب سے بلند ہے، جس نے پیدا کیا اور درست بنایا“، انہوں نے فرمایا کہ یہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی قرات (کا انداز) ہے۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. الهيثم بن خلف: هو الدُّوري، ويعقوب بن إبراهيم: هو الدورقي، وأبو بشر: هو جعفر بن أبي وحشية.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ہیثم بن خلف سے مراد "الدوری"، یعقوب بن ابراہیم سے مراد "الدورقی" اور ابو بشر سے مراد "جعفر بن ابی وحشیہ" ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 30/ 151 عن يعقوب بن إبراهيم وحده، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے تفسیر (30/151) میں اکیلے یعقوب بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الآجري في "الشريعة" (672) من طريق زياد بن أيوب، عن هشيم، به. ولم يذكر فيه (الذي خلق …) إلخ.
حوالہ / مصدر: اسے آجری نے "الشریعۃ" (672) میں زیاد بن ایوب کے طریق سے، انہوں نے ہشیم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور اس میں (الذی خلق...) الخ کا ذکر نہیں کیا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ ہیثم بن خلف سے مراد "الدوری"، یعقوب بن ابراہیم سے مراد "الدورقی" اور ابو بشر سے مراد "جعفر بن ابی وحشیہ" ہیں۔
وأخرجه الطبري في "تفسيره" 30/ 151 عن يعقوب بن إبراهيم وحده، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے طبری نے تفسیر (30/151) میں اکیلے یعقوب بن ابراہیم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه الآجري في "الشريعة" (672) من طريق زياد بن أيوب، عن هشيم، به. ولم يذكر فيه (الذي خلق …) إلخ.
حوالہ / مصدر: اسے آجری نے "الشریعۃ" (672) میں زیاد بن ایوب کے طریق سے، انہوں نے ہشیم سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور اس میں (الذی خلق...) الخ کا ذکر نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3967 سے ماخوذ ہے۔