المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ الْغَاشِيَةِ باب: تفسیر سورۂ الغاشیہ
حدَّثنا أبو العبَّاس محمد بن يعقوب، حدَّثنا الخَضِر بن أبانَ الهاشمي، حدَّثنا سيَّار بن حاتم، حدَّثنا جعفر بن سليمان، قال: سمعت أبا عِمران الجَوْني يقول: مرَّ عمرُ بن الخطَّاب بدَيْر راهب، قال: فناداهُ: يا راهبُ، يا راهبُ، قال: فأَشْرَفَ عليه، فجعل عمرُ يَنظُر إليه ويبكي، قال: فقيل له: يا أمير المؤمنين، ما يُبكيك من هذا؟ قال: ذكرتُ قول الله في كتابه: ﴿عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ (3) تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً (4) تُسْقَى مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ﴾ [الغاشية: 3 - 5]، فذلكَ الذي أبكاني (1). هذه حكايةٌ في وقتها! فإنَّ أبا عمران الجَوْنِي لم يُدرِكْ زمان عمر.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3925 - الجوني لم يدرك عمر لكنها حكاية في موضعهاابوعمران جونی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایک عیسائی راہب کی عبادت گاہ کے پاس سے گزرے تو انہوں نے اسے آواز دی: اے راہب! اے راہب! وہ راہب جھانک کر دیکھنے لگا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے دیکھ کر رونے لگے، ان سے عرض کی گیا: اے امیر المومنین! آپ اس کی کس حالت پر رو رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا: مجھے اللہ عزوجل کا اپنی کتاب میں یہ فرمان یاد آ گیا: ﴿عَامِلَةٌ نَاصِبَةٌ (3) تَصْلَى نَارًا حَامِيَةً (4) تُسْقَى مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ﴾ [سورة الغاشية: 3-5] ”وہ محنت کرنے والے اور تھکنے والے ہوں گے، وہ دہکتی آگ میں داخل ہوں گے، انہیں نہایت کھولتے ہوئے چشمے سے پانی پلایا جائے گا“، بس یہی وہ بات ہے جس نے مجھے رلا دیا۔
یہ اس وقت کی ایک حکایت ہے کیونکہ ابوعمران جونی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس کی سند خضر بن ابان کے ضعف کی وجہ سے "ضعیف" ہے۔ سیار بن حاتم میں بھی ضعف ہے لیکن ان کا اعتبار کیا جاتا ہے، اور یہ دونوں متابَع ہیں۔ اور ابو عمران الجونی (عبد الملک بن حبیب) کی عمر رضی اللہ عنہ سے روایت "منقطع" ہے کیونکہ انہوں نے ان کا زمانہ نہیں پایا۔
وأخرجه الحافظ أبو بكر البرقاني كما في "تفسير ابن كثير" 8/ 406 - 407 من طريق هارون بن عبد الله الحمّال، عن سيار بن حاتم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے حافظ ابو بکر برقانی نے (جیسا کہ "تفسیر ابن کثیر" 8/406-407 میں ہے) ہارون بن عبد اللہ الحمال کے طریق سے، انہوں نے سیار بن حاتم سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه عبد الرزاق في "تفسيره" 2/ 368 عن جعفر بن سليمان، به.
حوالہ / مصدر: اسے عبد الرزاق نے تفسیر (2/368) میں جعفر بن سلیمان سے اسی طرح روایت کیا ہے۔