المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ { إِذَا السَّمَاءُ انْفَطَرَتْ } - مَنْ اسْتَنَّ خَيْرًا فَلَهُ أَجْرُهُ وَأَجْرُ مَنْ عَمِلَ بِهِ باب: تفسیر سورۂ إذا السماء انفطرت — جس نے بھلائی کی بنیاد ڈالی اسے اس کا اجر بھی ملے گا اور اس پر عمل کرنے والوں کا بھی
أخبرنا الحسن بن حَليم المروَزي، حدَّثنا أبو الموجِّه، أخبرنا عَبْدانُ، أخبرنا عبد الله، أخبرنا هشام بن حسّان، عن محمد بن سيرين، عن أبي عُبيدة بن حُذيفة، عن حُذيفة بن اليَمَان قال: قام سائلٌ على عهدِ النبي ﷺ فسأَل، فسَكَت القومُ، ثم إنَّ رجلًا أعطاه فأعطاه القومُ، فقال النبي ﷺ: "مَن استَنَّ خيرًا فاستُنَّ به، فله أجرُه ومثلُ أُجور من اتَّبعه غير مُنتقِصٍ من أجورهم، ومن استَنَّ شَرًا فاستُنَّ به، فعليه وزرُه ومثلُ أوزارِ مَن اتَّبعه غير مُنتقصٍ من أوزارهم شيئًا". قال: وتلا حذيفةُ بن اليَمَان: ﴿عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ﴾ [الانفطار: 5] (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ، إنما اتَّفقا (2) على حديث جرير بن عبد الله: "مَن سَنَّ في الإسلام" فقط. 83 - تفسير سورة المطفِّفين ﷽
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3906 - صحيحسیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے عہد مبارک میں ایک سائل کھڑا ہوا اور اس نے سوال کیا، تو لوگ خاموش رہے، پھر ایک شخص نے اسے کچھ عطا کیا تو باقی لوگوں نے بھی اسے دینا شروع کر دیا، تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کوئی نیک طریقہ جاری کیا اور اس کی پیروی کی گئی تو اس کے لیے اپنا اجر بھی ہے اور ان تمام لوگوں کے اجر کے برابر بھی جو اس کی اتباع کریں گے بغیر اس کے کہ ان کے اجر میں کوئی کمی کی جائے، اور جس نے کوئی برا طریقہ جاری کیا اور اس کی پیروی کی گئی تو اس پر اپنا گناہ بھی ہے اور ان تمام لوگوں کے گناہ کے برابر بھی جو اس کی اتباع کریں گے بغیر اس کے کہ ان کے گناہوں میں کوئی کمی کی جائے۔“ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿عَلِمَتْ نَفْسٌ مَا قَدَّمَتْ وَأَخَّرَتْ﴾ [سورة الانفطار: 5] ”ہر جان جان لے گی جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ساتھ روایت نہیں کیا، بلکہ انہوں نے جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی صرف اس روایت پر اتفاق کیا ہے جس میں ”جس نے اسلام میں (نیک) طریقہ رائج کیا“ کے الفاظ ہیں۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح لغیرہ" ہے اور اس کی سند ابو عبیدہ بن حذیفہ کی وجہ سے "حسن" ہے۔ ابو المرجہ سے مراد "محمد بن عمرو فزاری"، عبدان سے مراد "عبد اللہ بن عثمان مروزی" اور عبد اللہ سے مراد "ابن المبارک" ہیں۔
وأخرجه أحمد 38/ (23289) عن وهب بن جرير، عن هشام بن حسان، بهذا الإسناد ولم يذكر فيه التلاوة.
حوالہ / مصدر: اسے احمد (38/23289) نے وہب بن جریر سے، انہوں نے ہشام بن حسان سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے اور اس میں تلاوت کا ذکر نہیں کیا۔
ويشهد له حديثًا جرير بن عبد الله البجلي وأبي هريرة عند مسلم (2674) (15) و (16).
متابعات و شواہد: اس کے لیے بطور شاہد جریر بن عبد اللہ بجلی اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہما کی حدیث مسلم (2674/15، 16) میں ہے۔
(2) هذا ذهول من المصنف ﵀، فحديث جرير أخرجه مسلم دون البخاري.
فنی نکتہ / علّت: یہ مصنف رحمہ اللہ کا "ذہول" (بھول) ہے، کیونکہ جریر کی حدیث مسلم نے روایت کی ہے، بخاری نے نہیں۔