المستدرك على الصحيحين
كتاب التفسير— تفسیر کا بیان
تَفْسِيرُ سُورَةِ { إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ } -مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَنْظُرَ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ فَلْيَقْرَأْ: {إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ} باب: تفسیر سورۂ إذا الشمس كورت — جو قیامت دیکھنا چاہے وہ یہ سورت پڑھے
حدیث نمبر: 3944
حدَّثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا الحَسَن بن علي بن زياد، حدَّثنا إبراهيم بن موسى الفَرّاء، حدَّثنا هشام بن يوسف الصَّنعاني، حدثني عبد الله بن بَحير، حدثني عبد الرحمن بن يزيد، أنه سمع عبدَ الله بن عمر يقول: قال رسول الله ﷺ: "مَن أحبَّ أن يَنظُرَ إلى يوم القيامة، فليَقرأ ﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ " (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 3900 - صحيححافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص یہ چاہے کہ وہ قیامت کے دن کو (بچشمِ خود) دیکھ لے، تو اسے چاہیے کہ وہ سورہ ﴿إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ﴾ پڑھے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده حسن من أجل الحسن بن علي بن زياد وعبد الرحمن بن يزيد الصنعاني. وجوّده الحافظ ابن حجر في "فتح الباري" 14/ 526. وأخرجه أحمد 9/ (4941) عن إبراهيم بن خالد الصنعاني، عن عبد الله بن بحير، بهذا الإسناد.
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن بن علی بن زیاد اور عبد الرحمن بن یزید صنعانی کی وجہ سے "حسن" ہے۔ حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (14/526) میں اسے "جید" قرار دیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (9/4941) نے ابراہیم بن خالد صنعانی سے، انہوں نے عبد اللہ بن بحیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (8934) من طريق عبد الرزاق عن عبد الله بن بحير.
حوالہ / مصدر: یہ آگے نمبر (8934) پر عبد الرزاق عن عبد اللہ بن بحیر کے طریق سے آئے گا۔
درجۂ حدیث: اس کی سند حسن بن علی بن زیاد اور عبد الرحمن بن یزید صنعانی کی وجہ سے "حسن" ہے۔ حافظ ابن حجر نے "فتح الباری" (14/526) میں اسے "جید" قرار دیا ہے۔
حوالہ / مصدر: اسے احمد (9/4941) نے ابراہیم بن خالد صنعانی سے، انہوں نے عبد اللہ بن بحیر سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وسيأتي برقم (8934) من طريق عبد الرزاق عن عبد الله بن بحير.
حوالہ / مصدر: یہ آگے نمبر (8934) پر عبد الرزاق عن عبد اللہ بن بحیر کے طریق سے آئے گا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 3944 سے ماخوذ ہے۔